خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 266 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 266

خطبات طاہر جلدے 266 خطبه جمعه ۲۲ را پریل ۱۹۸۸ء قادیان یا دیگر پاکستان کی جماعتیں جہاں جماعت کے افراد کی تعداد اتنی ہے کہ وہ اپنا ایک معاشرہ قائم کر سکیں۔ایک معاشرے کا ماحول پیدا کر سکیں۔وہاں بچوں کی تربیت از خود ہوتی ہے اور اس کے لئے اتنی زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی مگر جہاں جماعت احمدیہ کے افراد بکھرے ہوئے ہوں اور اجتماعی حیثیت کی بجائے بالعموم انفرادی حیثیت میں رہتے ہوں وہاں بچوں کے لئے بہت سی وقتیں پیدا ہو جاتی ہیں کیونکہ معاشرہ غیر ہے بلکہ غیر ہی نہیں بلکہ معاندانہ معاشرہ ہے،اسلامی قدروں کے بالکل برعکس اور ان پر حملہ کرنے والا معاشرہ ہے۔اس پہلو سے والدین کو عام حالات کے مقابل پر زیادہ محنت کرنی چاہئے لیکن افسوس یہ ہے کہ عام حالات سے نسبتاً کم محنت کرتے ہیں اور جو کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کو خدا تعالیٰ پھل بھی دیتا ہے اور جو اس معاشرے میں رہتے ہوئے اپنے بچوں کی طرف بچپن سے ہی توجہ کرتے ہیں، ان کے دل میں دین کی محبت ڈالتے ہیں ، اچھی عادتیں ان کے اندر پیدا کرتے ہیں ان کو اللہ کے فضل کے ساتھ بڑے ہو کر بھی کوئی خطرہ نہیں رہتا۔اس لئے رمضان مبارک میں خصوصیت سے اس گزشتہ کی کو جہاں جہاں بھی محسوس ہو پورا کرنا چاہئے اور رمضان میں صرف روزوں کی تلقین نہیں کرنی چاہئے بلکہ روزوں کے لوازمات کی طرف بھی توجہ دینی چاہئے۔میں نے ایک دفعہ سرسری طور پر جائزہ لیا نو جوانوں سے پوچھنا شروع کیا روزہ رکھا ہے کہ نہیں رکھا، کیسا رہا، کس طرح رکھا تو اکثریہ دیکھا گیا یعنی اکثر جواب یہ ملا کہ روزہ صبح سحری کھا کر رکھا اور نفلوں کا کوئی ذکر نہیں تھا حالانکہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے ایک موقع پر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے رمضان کے روزے فرض کئے ہیں اور میں نے تہجد کی سنت اس میں دے کر ( الفاظ تو بعینہ یاد نہیں لیکن مراد یہ ہے کہ) تمہارے لئے مزید برکتوں کے رستے پیدا کر دئے ہیں۔(الترغیب والترہیب کتاب الصوم حدیث نمبر : ۱۴۸۷) تو تہجد ویسے بھی بہت اچھی چیز ہے اور قرآن کریم نے اس کو بہت ہی تعریف کے رنگ میں پیش فرمایا ہے اور اس کی بہت سی برکتیں ہیں اور مقام محمود تک لے جانے والی چیز ہے۔لیکن رمضان مبارک سے تہجد کا بہت گہرا تعلق ہے۔حضرت عائشہ صدیقہ روایت فرماتی ہیں کہ میں نے رمضان کے سوا آنحضرت ﷺ کو اتنا لمبا تہجد پڑھتے کبھی نہیں دیکھا کہ قریباً ساری رات بعض اوقات کھڑے ہو کر گزار دیتے تھے۔( بخاری کتاب الصلوۃ التراویح حدیث نمبر: ۱۸۸۴)