خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 261 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 261

خطبات طاہر جلدے 261 خطبه جمعه ۵ اراپریل ۱۹۸۸ء بعض دوسرے جرمن احمدی نوجوانوں کی طرف سے کہ تحریک جدید کے سال کے اعلان کے وقت میں نے UK یعنی انگلستان اور USA امریکہ وغیرہ کی تعریف تو کی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو خاص طور پر تحریک جدید میں آگے بڑھنے کی توفیق عطا فرمائی لیکن جرمنی کا ذکر چھوڑ دیا حالانکہ وہ بھی نہ صرف دعاؤں کے محتاج ہیں بلکہ اس پہلو سے سب سے بڑھ کر محتاج ہیں کیونکہ پاکستان کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ سالانہ تحریک جدید کا چندہ جرمنی کی جماعت دے رہی ہے۔چنانچہ میں نے ان سے کہا کہ افسوس سے کہ یہ اس وقت میرے علم میں بات نہیں تھی۔معلوم یہ ہوتا ہے ان کی اطلاع کہیں رستے میں رہی ہے اور مجھ تک بروقت نہیں پہنچی اس لئے اب اس کو درست کرنا ضروری ہے۔جرمنی کا گزشتہ سال کا چندہ انہتر ہزارا کہتر (۶۹،۰۷۱ ) پاؤنڈ تھا اور ڈچ مارک میں دولاکھ پچیس ہزار ایک سوا کاسی (۱۸۱، ۲۲۵) مارک۔اس کے مقابل پر انگلستان کا ساٹھ ہزار پاؤنڈ تھا۔یونائیٹڈ سٹیٹس کا اڑتالیس ہزار اور کینیڈا کا چھبیس ہزار۔تو ان کا شکوہ برحق ہے کہ ان سے پیچھے رہنے والی جماعتوں کا تو ذکر خیر ہو گیا اور دعا کی تحریک ہو گئی اور جو اول آئے ہیں ان کا ذکر ہی نہیں۔جرمنی کی جماعت ماشاء اللہ اکثر نو جوانوں پر مشتمل ہے اور بڑے جذباتی ہیں۔عمر بھی ایسی ہے لیکن جن حالات میں پاکستان سے نکلے ہیں اس کی وجہ سے بہت جذباتی ہیں اور اس کا نیک اثر یہ ان پر پڑا ہے کہ وہ بعض نیکیاں جن سے وہ اپنے ملک میں محروم میں تھے انہوں نے جرمنی میں آکر اختیار کر لی ہیں اور بہت سے ایسے نوجوان جو چندوں سے غافل تھے، دین کی راہ میں وقت کی قربانی پیش کرنے سے غافل تھے یہاں آکر اللہ کے فضل سے صف اول کے احمدی بن گئے ہیں یا بن رہے ہیں۔تو بعض کمزوریاں بھی ہیں۔میں ان کے متعلق بھی ان کو نصیحت کر کے آیا ہوں لیکن بالعموم یہ جماعت مجھے بہت ہی پیاری ہے بڑے ہی مخلص ، فدائی نوجوان ہیں اور آواز پر لبیک کہنے کا ایسا ان میں جذبہ ہے، ایسا جوش پیدا ہو جاتا ہے کہ حیرت ہوتی ہے، ایک دوسرے سے مسابقت کی روح اختیار کرتے ہوئے ہر اس نیکی کے میدان میں آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں جس طرف ان کو بلایا جاتا ہے۔جو کمزوریاں ہیں بعض ان کی طرف توجہ دلائی ہے آپ بھی جہاں ان کے لئے یہ دعا کریں کہ اللہ ان نیکیوں پہ انہیں جزا دے اور وہاں یہ دعا بھی ضروری ہے کہ بعض کمزوریاں جو وہاں کے بعض معاشرے کی خرابیاں ساتھ لے آئے ہیں ان سے بھی اللہ تعالیٰ ان کو نجات بخشے اور ہر پہلو سے دین و