خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 258
خطبات طاہر جلدے 258 خطبه جمعه ۵ اراپریل ۱۹۸۸ء لیں دونوں صورتوں میں یہ ایمان کا آخر پر ذکر کرنا برحل اور بجا ہے کیونکہ اس سے مراد عام ایمان نہیں بلکہ ایمان کی ایک ترقی یافتہ صورت ہے۔بہر حال یہ ہمیں معلوم ہو جاتا ہے کہ ہر رمضان کے دوران خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق بڑھانے کا ایک خاص موقع پیدا ہوتا ہے اور یہ جولیلۃ القدر کا مضمون ہے یہ انشاء اللہ بعد میں پھر اس پر کچھ روشنی ڈالوں گا۔اس کے متعلق بھی آپ سب جانتے ہیں کہ یہ بھی رمضان میں رکھی گئی ہے اور جوں جوں رمضان آگے بڑھتا ہے اور رمضان بھیگنا شروع ہوتا ہے۔رات کے متعلق کہا جاتا ہے کہ رات بھیگی۔میں نے یہ لفظ رمضان کے متعلق عمداً استعمال کیا ہے کیونکہ رات بھیگتی ہے جب گہری ہو جائے اور آخر پر دن کے قریب پہنچنے لگے اس وقت شبنم سے بھیگتی ہے اور رمضان جب اختتام اور عید کے قریب پہنچے لگتا ہے تو آنسوؤں سے بھیگتا ہے اور جتنا زیادہ آپ رمضان میں آگے بڑھتے ہیں اتنا زیادہ یہ نمدار ہوتا چلا جاتا ہے۔اس لئے عام سرسری محاورے کے طور پر میں نے نہیں کہا بلکہ خاص معنی کے پیش نظر کہا ہے کہ جوں جوں رمضان بھیگتا چلا جاتا ہے خدا تعالیٰ کے ساتھ محبت میں ایک خاص چمک پیدا ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک ایسا گہرا تعلق انسان محسوس کرنے لگتا ہے کہ بعض دفعہ تو وہ سمجھتا ہے کہ یہی میری زندگی کا آخری دن ہوتا تو بہتر تھا کیونکہ خاص اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمت اور پیار کے جلوے اسے نصیب ہوتے ہیں اور یہ جو رحمت کا چھینٹا ہے یہ عام ہے۔کبھی کسی اور مہینے میں اس کثرت کے ساتھ خدا کی رحمت کے ایسے چھینٹے نہیں پھینکے جاتے جو دنیا کے ہر کونے میں ، ہر ملک میں برس رہے ہوں اور جس کسی پر بھی پڑیں اسے خوش نصیب بنا دیں۔اس لئے رمضان کو بہت بڑی اہمیت حاصل ہے۔رمضان مبارک میں جو لوگ روزے نہیں رکھتے وہ تصور بھی نہیں کر سکتے کہ وہ کن نیکیوں سے محروم رہ گئے ہیں۔چند دن کی بھوک انہوں نے برداشت نہیں کی ، چند دن کی پابندیاں انہوں نے برداشت نہیں کیں اور بہت ہی بڑی نعمتوں سے محروم رہ گئے اور دنیا کی زنجیروں میں اور بھی زیادہ پہلے سے جکڑے گئے کیونکہ جو رمضان کی پابندیاں برداشت نہیں کرتا اس کی عادتیں دنیا سے مغلوب ہو جاتی ہیں اور وہ در حقیقت اپنے آپ کو مادہ پرستی کے بندھنوں میں خود جکڑنے کا موجب بن جایا کرتا ہے۔دن بدن یہ لوگ ادنی زندگی کے غلام ہوتے چلے جاتے ہیں۔اس کے بعد اگر چاہیں بھی تو پھر ان بندھنوں کو توڑکر ان سے آزاد نہیں ہو سکتے۔اس لئے بہت ہی ضروری فیصلہ ہے یہ کہ رمضان کی چند دن کی پابندیاں آیا ما مَعْدُو دُتِ خدا نے فرمایا۔گنتی کے چند دن ہی