خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 256 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 256

خطبات طاہر جلدے 256 خطبه جمعه ۵ اراپریل ۱۹۸۸ء عَنِّي فَإِنِّي قَرِيب اگر اے محمد ﷺ! تجھ سے میرے بندے یہ سوال کریں کہ میں کہاں ہوں فَإِنِّي قَرِيبٌ میں تو ان کے قریب ہوں أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ جب بھی کوئی بلانے والا مجھے بلاتا ہے میں اس کی دعوت کا جواب دیتا ہوں فَلْيَسْتَجِيبُوالي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ پس ان کو بھی تو چاہئے کہ وہ میری باتوں کا جواب دیں اور مجھ پر ایمان لائیں تا کہ وہ ہدایت پائیں۔اس آیت کا اس گزشتہ آیت سے گہرا تعلق ہے، رمضان کے مضمون سے گہرا تعلق ہے۔جتنا خدا تعالی رمضان کے مہینے میں بندے کے قریب ہوتا ہے اتنا کسی اور مہینے میں اس کثرت کے ساتھ خدا تعالیٰ کی قربت کی شہادتیں نہیں ملتیں اور رمضان کے مہینے میں ایک یا دو یا تین کے ساتھ یہ قربت کا تعلق ظاہر نہیں ہوتا بلکہ کثرت کے ساتھ عام مومنوں سے یہی سلوک ہوتا ہے۔اسی لئے یہ اعلان عام ہے۔وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّى فَإِنِّي قَرِيبٌ۔عِبَادِی سے مراد بندے بھی ہیں اور عبادی سے مراد عبادت کرنے والے بھی ہیں اور اس موقع پر میرے نزدیک یہاں عام عبد مراد نہیں صلى الله بلکہ عبادت کرنے والے بندے مراد ہیں اور وہی تھے جو آنحضرت ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے متعلق پوچھا کرتے تھے۔تو فرمایا میرے بندے جو میری عبادت کرتے ہیں اگر وہ سوال کریں تو میں قریب ہوں، ان کی دعوت کا جواب دیتا ہوں اور دوں گا لیکن وہ میری ہدایات کا جواب دیں یعنی میری باتوں کا جواب دیں یعنی ان پر عمل کریں اور مجھ پر ایمان لائیں لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ تا کہ وہ ہدایت پائیں۔یہاں وَلْيُؤْمِنُوا لی جب فرمایا تو اس میں ایک اشتباہ بھی پیدا کر دیا اس لئے اس مضمون کو کھولنا چاہئے۔اگر ہم عبادی کے مفہوم میں عبادت کا مفہوم بھی شامل کر لیں تو پھر لْيُؤْمِنُوا ہی کو آخر میں بیان فرمانا عجیب معلوم ہوتا ہے۔اور اگر عبادت کا مفہوم نہ بھی شامل کریں عام بندے سمجھ جائیں تو پھر بھی اس آیت کی ترتیب عجیب لگتی ہے فرماتا ہے گویا کہ میں ہر بندے کی دعا کا جواب دیتا ہوں جب بھی وہ مجھے پکارتا ہے فَلْيَسْتَجِيبُوا لِی پس وہ بھی میری باتوں کا جواب دے ولیو منوا لی اور مجھ پر ایمان لائے۔اگر ایمان سے پہلے یہ ساری باتیں گزر جانی ہیں تو پھر ایمان کا کیا سوال ہے؟ جب مکالمہ مخاطبہ شروع ہو جائے ، جب خدا جواب دینے لگے تو پھر تو وہ شہادت کے مقام پر انسان پہنچ جاتا ہے۔پھر وَلْيُؤْمِنُوا بِی کیا مقام ہے؟ لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ