خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 255 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 255

خطبات طاہر جلدے 255 خطبه جمعه ۵ اراپریل ۱۹۸۸ء مومن کے لئے آسانیاں ہیں اور عسر نہیں ہے۔جو روزہ چھوڑتا ہے اس کے لئے تکلیفیں ہوں گی۔یہ مضمون بہت لطیف اور بہت تفصیلی مضمون ہے لیکن دنیا کے لحاظ سے ، ظاہری نظر آنے کے لحاظ سے بھی میرا یہ مشاہدہ ہے کہ ایک مہینہ کے روزے روزہ رکھنے والوں کی صحت پر سارے سال کے لئے خوشگوار اثر چھوڑ جاتے ہیں۔اگر روزوں کے مہینے نہ آتے تو وہ لوگ جو موٹے ہوتے چلے جارہے ہیں، بعض لوگ کھانا زیادہ کھانے کی وجہ سے ، بعض لوگ کرسیوں پر بیٹھ کے کام کرنے کے نتیجہ میں، بعض دیگر بیماریوں کے نتیجہ میں ان کا میٹا بولزم Metabolism کا توازن بگڑ چکا ہوتا ہے۔ان کے لئے بڑی دقت ہوتی ہے اور سال کے بعد سال ان کے اوپر جسمانی بوجھ چڑھتے چلے جاتے ہیں۔ایک مہینہ رمضان کا ان کو ہلکا کر کے چھانٹ کے ان کو پھر دوبارہ زندہ رہنے کے لائق بنا دیتا ہے۔جس طرح سال میں ایک دفعہ اچھا مالی درخت کی چھانٹی کرتا ہے، اس کی شاخوں کو کترتا ہے اور بوجھا تارتا ہے اوپر سے رمضان بالکل یہی کام ہر مومن کے لئے کر جاتا ہے۔اور اس کے علاوہ بھی روحانی بیماریاں تو ان گنت ہیں جن سے روزہ نجات بخشتا ہے۔کسل کی بیماری اور جسمانی بیماریاں جو مختلف نوع کی ہیں، غلط عادتیں آرام کی ، سارا دن دیر تک ایک دفعہ سونا تو صبح دس بجے آنکھ کھلنی اور بہت سی ایسی بیماریاں ہیں جس سے طبیعت میں کسل پیدا ہوتا ہے، ستی لاحق ہو جاتی ہے اور رمضان کا مہینہ چست و چالاک کر دیتا ہے آدمی کو اور اس کو یہ بتا دیتا ہے کہ تمہارے لئے کتنی نیند کافی ہے۔اس سے زیادہ جو ہے وہ تمہاری عیاشی ہے۔جہاں تک ضرورت کا تعلق ہے تمہارے لئے یہی کافی ہے۔چنانچہ رمضان کا مہینہ بہت ہی زیادہ آسانیاں پیدا کرتا ہے اور اس کی پیدا کردہ آسانیاں پھر سارا سال انسان استعمال کرتا ہے اور بیچ میں جو پھر مزید بوجھ پڑنے شروع ہوتے ہیں پھر رمضان کا مہینہ آکر ان کو صاف کر جاتا ہے۔بہر حال یہ مضمون تو بڑا دلچسپ اور تفصیلی ہے کہ رمضان کس قسم کی آسانیاں لے کر آتا ہے اور کس قسم کی مشکلات سے نجات بخشتا ہے۔پھر فرمایا وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللهَ عَلَى مَا هَدُ بكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ اور مناسب یہی ہے کہ تم تعداد پوری کرو اور خدا تعالیٰ کی تکبیر کرو، اس کے نام کی بلندی کا اعلان کرو اس بات پر کہ اس نے تمہیں ہدایت عطا فرمائی ہے اور یہی مناسب ہے کہ تم اس کے شکر گزار بنو لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ۔اس کے بعد اس مضمون کا جو منتہی ہے وہ بیان ہوا ہے۔فرمایا وَ إِذَا سَأَلَكَ عِبَادِی