خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 248 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 248

خطبات طاہر جلدے 248 خطبه جمعه ۵ اراپریل ۱۹۸۸ء رکھتے تھے اس سے انکار نہیں ہوتا۔اس روایت سے صرف یہ پتا چلتا ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے روزوں کی اپنے متبعین کو جو ہدایت فرمائی ہے وہ پہلی مرتبہ عاشورہ کے روزے کے متعلقفر مائی اور تاکید فرمائی کہ یہ چونکہ موسیٰ کی رہائی کا دن ہے اس لئے ہم سب اس میں روزہ رکھیں گے۔اب قرآن کریم کا ایک کثیر حصہ نازل ہو چکا تھا اور اس میں رمضان کا کوئی ذکر نہیں تھا۔پھر جب رمضان کے روزے رکھنے کا حکم آیا تو آنحضور ﷺ نے فرمایا کہ اب اس کے بعد آزادی ہے چاہو تو عاشورہ کا روزہ رکھو چا ہو تو نہ رکھو۔خدا نے ہمیں اپنے ہمارے روزے عطا کر دیئے ہیں۔( بخاری کتاب الصوم باب الصيام يوم عاشوراء حدیث نمبر : ۲۰۰۱) پس یہ معنی کرنا کہ أُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْآنُ اس کے بارہ میں قرآن نازل کیا گیا اس لحاظ سے بہت ہی وقت طلب ہے، مشکلات پیدا کرتا ہے۔ہاں ایک لحاظ سے اس کے معنی ہو سکتے ہیں اس لئے ہم اسے بہر حال غلط نہیں کہہ سکتے۔اس لئے کہ روزے میں تمام عبادات کو اکٹھا کر دیا گیا ہے۔روزہ ایک رنگ میں عبادات کا معراج ہے اور تعلق باللہ کے لحاظ سے روزہ بہت ہی زیادہ اہم ہے مومن کی زندگی میں اور جتنا رمضان میں تعلق باللہ کے ذرئع میسر آتے ہیں اور تحریک و تحریص پیدا ہوتی ہے دوسرے دنوں میں ایسا ممکن نہیں۔پھر حج میں تو معدودے چند لوگ وہاں پہنچ سکتے ہیں اور رمضان ہر جگہ خود پہنچتا ہے۔جو شخص بھی رمضان کا چاند جہاں بھی دیکھے دنیا میں اس پر روزے فرض ہو جاتے ہیں۔اس لئے یہ ایک ایسی عبادت ہے جسے دوسری تمام عبادتوں میں ایک امتیازی مقام حاصل ہے۔تو اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْآنُ کا یہ معنی اگر کیا جائے کہ رمضان کی روح، رمضان کی نیکیوں اور رمضان کے مقاصد کے متعلق ہی قرآن نازل ہوا ہے تو یہ کہنا غلط نہیں ہو گا۔لیکن دوسری طرف ایک اور توجیہ بھی موجود ہے اس لئے یہ ترجمہ کرنا ہر گز غلط نہیں قرار دیا جا سکتا کہ رمضان کے مہینہ میں قرآن کریم نازل ہوا کیونکہ قرآن کریم کے آغاز کے متعلق بتایا جاتا ہے کہ رمضان مبارک میں ہوا۔پھر کثرت کے ساتھ رمضان مبارک میں حضرت جبرائیل نازل ہوتے تھے اور جتنا قرآن کریم اس وقت تک نازل ہو چکا ہوتا تھا وہ سب دہراتے تھے اور مسلسل یہ سلسلہ جاری رہا جب تک آنحضرت ﷺ کا وصال نہیں ہوا۔( بخاری کتاب فضائل القرآن حدیث نمبر : ۴۶۱۴) تو رمضان میں کثرت کے ساتھ قرآن کا نازل ہونا یا آخری رمضان جو آیا ہو گا اس کے متعلق ہم کہہ سکتے ہیں کہ پورا قرآن کریم از سرنو نازل ہوا یعنی جمع ہوتا رہا نازل ہوا ہے۔تو أُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْآنُ سے