خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 247 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 247

خطبات طاہر جلدے 247 خطبه جمعه ۵ اراپریل ۱۹۸۸ء اور گواہیوں کا تعلق ہے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ رمضان شریف کے علاوہ قرآن کریم دوسرے مہینوں میں نازل نہیں ہوا بلکہ پھر اس کے برعکس قطعی طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ اکثر قرآن کریم کا نزول سارا سال میں مجموعی طور پر ان مہینوں میں زیادہ ہے جو رمضان کے علاوہ ہیں اور ان کے مقابل پر رمضان میں جو قرآن کریم کا نزول ہوا ان گیارہ مہینوں کے مقابل پر کم ہے۔اگر چہ دیگر مہینوں کے مقابل پر ایک کے مقابل پر دوسرے مہینے کو اگر رکھیں تو رمضان میں آیات قرآنی کے نزول کے متعلق کہا جاسکتا ہے کہ ہر دوسرے مہینے سے زیادہ ہوں گی لیکن اس وقت کو حل کرنے کے لئے جب یہ ترجمہ کیا گیا أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآن قرآن اس کے بارہ میں اتارا گیا تو اس سے پھر کچھ دقتیں پیدا ہوتی ہیں۔مثلاً یہ کہ کیا قرآن کریم کے نزول کا مقصد رمضان کے ذکر کے سوا اور کوئی ذکر نہیں اور رمضان کا ذکر تو ہجرت کے بعد ہے۔سب سے پہلے رمضان شریف کا ذکر خود اس آیت میں ہجرت کے بعد ہے کیونکہ مدینہ میں شروع میں حضرت اقدس محمد مصطفی اسے صرف عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے اور قطعی طور پر یہ ثابت ہے بخاری میں بھی یہ حدیث ہے اور دوسری کتب میں بھی کہ جب آنحضرت ﷺ ہجرت کے بعد مدینہ تشریف لے گئے تو معلوم ہوا کہ یہود عاشورہ کا روزہ رکھتے ہیں یعنی دسویں محرم کا۔اس پر آنحضور ﷺ نے پوچھا کہ کیوں رکھتے ہیں تو کسی نے بتایا کہ اس لئے کہ ان کی روایات کے مطابق حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کو فرعون کے مظالم سے دسویں محرم کو نجات ملی تھی۔(مسلم کتاب الصیام یوم عاشوراء حدیث نمبر : ۲۵۴۵) اس لئے اس دن کو خدا تعالیٰ کا شکر یہ ادا کرنے کا دن مناتے ہیں اور اس لئے روزہ رکھتے ہیں۔اس پر حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے فرمایا کہ موسیٰ یہود کے مقابل پر ہمارے زیادہ قریب ہیں۔اس لئے یہ اعلان کر دو، غالباً یہ اعلان ہوا ہے اسی دن یعنی جب روزہ تھا، اس سے پہلے ایک رات معلوم ہوا ہے کیونکہ روایت میں پتا چلتا ہے کہ آپ نے یہ اعلان کروایا صبح کے وقت کہ جس شخص نے صبح روزے کا وقت شروع ہونے کے بعد اس اعلان کے سننے تک کچھ نہیں کھا یا وہ کچھ نہ کھائے اور آج عاشورہ کا روزہ رکھے اور جو کوئی کھا چکا ہے وہ اس کے بدلہ پھر کسی دن عاشورہ کا روزہ رکھے جس طرح رمضان کے روزے بعد میں بھی رکھے جاسکتے ہیں۔تو یہ پہلی مرتبہ آنحضور ﷺ نے عاشورہ کا روزہ جو رکھا وہ یہود کی اس روایت پر بنا کرتے ہوئے اور اس کی پہلی مرتبہ تلقین فرمائی لیکن ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ آپ اس سے پہلے خود روزے نہیں