خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 246
خطبات طاہر جلدے 246 خطبه جمعه ۵ اراپریل ۱۹۸۸ء دو یا تین دن کے اندر رمضان مبارک کا مہینہ شروع ہونے والا ہے اس لئے آج کے جمعہ کے لئے میں نے رمضان ہی کو موضوع بنایا ہے۔قرآن کریم کی جن آیات کی میں نے تلاوت کی ہے ان کا ترجمہ یہ ہے کہ اے ایمان لانے والو! تم پر روزے فرض کر دیئے گئے ہیں جیسا کہ تم سے پہلے بھی لوگوں پر روزے فرض کئے گئے تھے۔یہ اس غرض سے ہے تا کہ تم تقویٰ اختیار کرو اور بدیوں اور کمزوریوں سے بچو۔چند دن کی بات ہے آیا مًا مَّعْدُودَتٍ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيضًا اور اس میں بھی رخصت یہ ہے کہ تم میں سے اگر کوئی بیمار ہو یا سفر پر ہو فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ وہ شہر کر بعد میں روزے رکھ لے۔اور وہ لوگ جو بعد میں بھی روزے کی طاقت نہ رکھتے ہوں ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ ایک روزہ کے بدلہ ایک غریب اور مسکین کو کھانا کھلا ئیں۔یا دوسرا معنی اس کا یہ ہو گا کہ وہ لوگ جو کھانا کھلانے کی طاقت رکھتے ہوں وہ روزے بعد میں رکھنے کے علاوہ رمضان میں ان روزے کے بدلے جو وہ چھوڑتے ہیں غرباء کو کھانا کھلائیں۔یہ ان کی طرف سے فدیہ ہو گا۔فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا پس وہ لوگ جو خوشی سے نیکی کرتے ہیں یا وہ جو خوشی سے نیکی کرتا ہے اس کے لئے یہ بہتر ہے وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَّكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ اور اگر تم روزے رکھو تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ کا ترجمہ یہ یہ کیا جاتا ہے عموماً اگر تم جانتے حالانکہ بہتر تو ہر صورت میں ہے خواہ کوئی جانتا ہو یا نہ جانتا ہو۔اِنْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ کا ایک ترجمہ عربی محاورے کی رُو سے یہ بھی ہو سکتا ہے: کاش کہ تم جانتے۔کاش ایسا ہوتا کہ تمہیں خبر ہوتی ، تم بے خبر ہوان باتوں اور بے خبری کے نتیجہ میں اس فائدہ سے محروم ہو گئے ہو۔شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِى أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اتارا گیا۔اس کا ایک یہ بھی ترجمہ کیا جاتا ہے۔رمضان کا مہینہ جس کے بارے میں قرآن اتارا گیا۔لفظاً اس ترجمہ کی گنجائش ہے کیونکہ فیس کا مطلب اس میں یا اس کے بارہ میں دونوں ہو سکتے ہیں۔اس کے بارہ میں ترجمہ اختیار کرنے کی وجہ یہ سامنے آتی ہے کہ جہاں تک تاریخی حقائق