خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 242 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 242

خطبات طاہر جلدے 242 خطبه جمعه ۸ / اپریل ۱۹۸۸ء نیکی کو یہ ایک بہت بڑا حاصل ہے ہمارا جو ایک سو سال میں ہمیں ملا ہے اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ۔اسی طرح وقار عمل کے کام ہیں مثلاً اور کئی قسم کے شعبے ہیں جن میں جماعت احمد یہ کونئی صلاحیتیں بخشی گئیں ہیں۔قوت وہی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعے جاری ہوئی یعنی تقوی کی قوت۔اسی کو نئے نئے پھل لگ رہے ہیں لیکن پھلوں کے وقت ہوتے ہیں، موسم ہوتے ہیں۔بعض درخت کچھ دیر کے بعد پھل دیتے ہیں۔بعض جلدی دیتے ہیں۔تو تقویٰ کی علامتیں ظاہر کرنے والا پہلا درخت تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں اس طرح پھل پھول لایا ہے، اس طرح اس نے نشو ونما کی ہے کہ بہار کا سماں پیدا کر دیا ہے اور اس پہلو سے میں سمجھتا ہوں کہ جماعت کو یاد دہانی کی ضرورت ہے۔لیکن دیر پا اثر کرنے والے تقویٰ کے جو پھل تھے لیکن دیر سے نمودار ہونے والے جو تقویٰ کے پھل تھے وہ آج ہم میں لگ رہے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے۔اس لحاظ سے جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے اب یقینی طور پر زندگی پر قائم ہے۔پچھلے دنوں یہاں انگلستان میں کینیڈا کے ایک بہت مشہور پروفیسر جو اپنی یونیورسٹی میں مذہب کے ڈیپارٹمنٹ میں ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ ہیں۔وہ پاکستان جاتے ہوئے ایک دن کے لئے لندن ٹھہرے اور مجھ سے بھی انہوں نے باتیں کیں۔پھر احمدی دوستوں سے اردگرد ملے۔ربوہ جا کر بھی اور پاکستان میں مختلف شہروں میں جا کر انہوں نے جماعت کے ساتھ بھی رابطہ پیدا کیا۔منہدم مساجد بھی دیکھیں، مساجد کی پیشانیوں سے کلمہ مٹانے کے داغ بھی دیکھے، اسیروں سے بھی ملاقاتیں کیں، غیروں سے بھی ملاقاتیں کیں۔گویا کہ پورا جائزہ لے کر وہ واپس کینیڈا پہنچے ہیں اور کینیڈا پہنچ کر انہوں نے ایک انٹر ویو دیا وہاں کے سب سے زیادہ ہر دلعزیز ریڈیو کے اوپر اور یہ ابھی پہلا ہے اس سلسلہ کا اور بھی وہ ٹیلی ویژن وغیرہ کے ذریعے اپنے تاثرات سارے ملک تک پہنچائیں گے۔اس انٹرویو کی نقل ایک احمدی دوست نے مجھے بھجوائی جو آئی دفعہ میں نے کار میں لگا کرسنی اور اس میں ایک بہت ہی دلچسپ بات جس کا آج کے مضمون سے تعلق ہے انہوں نے یہ بیان کی کہ جماعت احمد یہ یہ لوگ، ان کے غیر ، ان کے دشمن، سازشی جس طرح بھی چاہیں دیکھیں اور جتنا چاہیں کہیں یہ اسلام سے دور، کٹے ہوئے اور مرتد ہیں مگر جو میں دیکھ کے آیا ہوں میرے نزدیک اسلام کی زندگی کا انحصار اس جماعت پر ہے۔اسلام اسی جماعت کے ذریعے دنیا میں پھیل سکتا ہے، اسی میں وہ طاقت