خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 241
خطبات طاہر جلدے 241 خطبه جمعه ۸ / اپریل ۱۹۸۸ء صلى الله جب تک آپ فیض رساں رہیں گے قرآن کریم کا یہ فتویٰ آپ پر صادر آتا رہے گا کہ كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ ( آل عمران : 1) تم چونکہ بنی نوع انسان کی بہبود کے لئے وقف ہو اس لئے تم دنیا کی بہترین امت ہو اور حضرت محمد مصطفی میلہ کی طرف منسوب ہونے کا حق کسی کومل ہی نہیں سکتا جب تک وہ بہترین امت نہ بنے کیونکہ جو رسولوں میں بہترین ہے اس کی طرف منسوب ہونے کا سچا حق صرف اس کو نصیب ہوسکتا ہے جو بہترین امت ہو۔اس لئے دونوں چیزیں لازم و ملزوم ہیں۔اس کو آپ خوب پیش نظر رکھیں کہ اپنے فیض کو بڑھانے کی کوشش کریں اور جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو فیض رسانی کے جذبے عطا کئے ہیں انہیں مزید آگے بڑھائیں اور مزید نو جوانوں کو فیض رسانی کے کاموں میں ساتھ شامل کریں۔اس سے ان کے اندر اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک نئی پاکیزہ زندگی پیدا ہوگی۔اس دور میں جماعت احمدیہ نے ایک سو سال کا عرصہ گزر چکا ہے کیا کچھ کھویا ہے، کیا کچھ پایا ہے اس پر اگر آپ نظر کرتے ہیں تو بعض چیزوں کے لحاظ سے بڑی فکر پیدا ہوتی ہے۔میں خطبوں میں بار بار یاد بھی کراتا ہوں کہ اپنی اخلاقی قدروں کو بلند کریں، اپنی بعض صلاحیتیں جن کو آپ نے کھویا ہے ان کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کریں لیکن بعض دوسری صورتوں کے لحاظ سے میں سمجھتا ہوں کہ جماعت نے بہت کچھ پایا بھی ہے اور پہلی صدی گویا اس صدی کے سر پر جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جماعت کو از سر نو مردوں میں سے زندہ کر رہے تھے اس وقت ابھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم بعض پہلوؤں سے پوری طرح جذب نہیں ہوئی تھی اور وہ انقلابی تبدیلیاں جو وقت چاہتی ہیں وہ ابھی جماعت میں پیدا نہیں ہوئی تھیں۔چندے کا نظام آپ دیکھ لیجئے۔باوجود اس کے کہ تقویٰ کے بہت اعلیٰ معیار پر وہ لوگ تھے لیکن چندے کے لئے کوئی باقاعدہ منتظم قربانی کرنے کے لئے ابھی ان کے اندر نہ صلاحیت موجود تھی نہ اس کے انتظامات موجود تھے۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریک پر کسی نے سب کچھ پیش کر دیا کسی نے کچھ پیش کیا۔بڑے خلوص کے ساتھ پیش کیا لیکن منظم طور پر یہ کہنا کہ جماعت کی بھاری اکثریت ان خدمت کے کاموں میں شامل تھی یہ بالکل غلط بات ہو گی۔آج ہم کہہ سکتے ہیں کہ بہت ملک ایسے ہیں جہاں جماعت کی بھاری اکثریت خدمت دین کے لئے مالی قربانی میں پیش پیش ہے۔اب یہ وسعت جو ہے