خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 240
خطبات طاہر جلدے 240 خطبه جمعه ۸ / اپریل ۱۹۸۸ء اجازت ہے، جہاں قتل و غارت کی تلقین کی ان کو اجازت ہے، جہاں پتھراؤ کرنے کی ان کو اجازت ہے، جہاں مسجد میں جلانے کی ان کو اجازت ہے وہاں یہ شکلیں کس رنگ میں، کس بھیانک صورت میں ظاہر ہوتی ہوں گی۔وہاں جماعت احمدیہ کا یہ کردار کہ آپ ہماری پر واہ نہ کریں ہم بالکل خدا کے فضل سے قائم ہیں اور ثبات قدم ہمیں نصیب ہوا ہوا ہے۔ہم بڑی ہمت کے ساتھ خدا تعالیٰ سے دعائیں کرتے اس ابتلا میں سے گزر رہے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ خدا ہمارے ساتھ ہے اس لئے ہمارا کوئی مستقل نقصان نہیں کر سکتا۔یہ پیغام وہاں سے آتے ہیں گویا اس کے کہ مجھے ضرورت پڑے کہ ان کو صبر کی تلقین کروں ان کو میر افکر ہے اور باہر کی جماعتوں کا فکر ہے وہ ہمارے غم میں اتنی زیادہ فکرمند نہ ہو جائیں۔یہ ساری علامتیں ہیں زندگی کی اور خدا تعالیٰ کی طرف سے جس کو امام مقرر کیا گیا ہو اس کے سوا اس مادہ پرستی کی دنیا میں یہ معجزہ دکھا ہی نہیں سکتا کوئی۔ناممکن ہے ایک عام انسان کے لئے کہ اسی مٹی کو پکڑے اور اسی ضمیر سے ایک نئی روح والی ، ایک زندہ جماعت پیدا کر دے جو پرندوں کی طرح آسمان کی بلندیوں میں اڑنے کی طاقت رکھتے ہوں۔یہی مسیحیت کا معجزہ ہے جو کسی نہ کسی شکل میں پہلے بھی نمودار ہوا تھا لیکن حضرت اقدس محمد مصطفی میلہ کی برکت سے مسیح محمدی کے ہاتھوں بہت بڑی شان کے ساتھ یہ دنیا میں رونما ہو رہا ہے اور دنیا کے ہر ملک میں رونما ہو رہا ہے۔افریقہ میں میں نے جاکے دیکھا۔وہاں کی جماعت کے اندر ایک ایسا خدا تعالیٰ کے فضل سے روحانی انقلاب آیا ہوا ہے کہ اردگرد کے لوگوں کے مقابلہ پر وہ ایک نئی مخلوق معلوم ہوتے ہیں۔چنانچہ بعینہ یہی بات وہاں کے بعض افسروں نے مجھ سے کہی کہ ہم تو حیرت سے دیکھتے ہیں کہ آپ لوگ ہمارے اردگرد بسنے والے لوگوں میں کیسی پاک تبدیلی کرتے ہیں کہ نئے لوگ بن جاتے ہیں اور ان کے سارے رجحانات خدمت کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔نہ کوئی تخریب کاری ، نہ کوئی جرم، نہ کسی اور کوکسی رنگ میں تکلیف دینا بلکہ لوگوں کے دکھوں کے ازالہ کرنا ، ان کی خدمت کرنا اور ملک کی بھی خدمت ، قوم کی بھی خدمت۔ہر رنگ میں یہ لوگ وقف ہیں اس کام کے لئے کہ ان کے ذریعے کسی نہ کسی رنگ میں دوسروں کو فیض پہنچے۔اور یہ فیض رسانی اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت میں کم ہونے کی بجائے بڑھ رہی ہے اور اس کا دائرہ پھیل رہا ہے۔یہ ایک بہت بڑی چیز ہے جس کی طرف میں آپ کو متوجہ کرتا ہوں کہ اس کو آگے بڑھاتے رہے ہیں اور اس کو زندہ رکھنا ہمارا فرض ہے۔