خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 230 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 230

خطبات طاہر جلدے 230 خطبه جمعه ۸ / اپریل ۱۹۸۸ء بھگ بنتی تھی۔اس کے علاوہ ہم نے یہاں ایک بیرونی حصے کے اضافے کا فیصلہ کیا تا کہ جماعت جب بڑھے گی پھیلے گی اللہ کے فضل کے ساتھ تو ضروریات بھی بڑھیں گی ان کو الگ ایک اجتماعی باور چی خانے کی ضرورت پڑے گی اور اسی طرح بعض ایسی ضرورتیں ہیں سامان اکٹھارکھنا وغیرہ اس کے لئے بھی جگہ کی ضرورت تھی۔تو یہ اضافہ تقریباً جو عام اندازہ ہے باہر کا اس کے لحاظ سے کل چھپیں ہزار پاؤنڈ کا اضافہ بنتا ہے۔تو گویا کل رقم جو جماعت کو درکار تھی وہ دولاکھ پینسٹھ ہزار کے قریب بنتی ہے۔پھر اس کے اوپر Furnishing ہے قالین وغیرہ لینے ہیں دوسرے عمارت کے سامان تو کم و بیش یہ دو لاکھ اسی ہزار (۲۸۰،۰۰۰) سے کچھ اوپر رقم بن جاتی تھی جس کی جماعت کے پاس اس وقت ہرگز استطاعت نہیں تھی۔چنانچہ مجھے خیال آیا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اصل جماعت کی طاقت تو خدمت دین کے جذبے میں ہے، اس روح میں ہے جو جماعت کی زندگی کا نشان بنی ہوئی ہے۔اس لئے تحریک کی جائے اور شمالی جماعتوں کے خدام، انصار، بچوں سے کہا جائے کہ وہ خود آ کر اس گند کو صاف کریں اور ہم ضروری دوائیاں لے لیں اور جو بھی طریق کار ہے وہ سمجھ لیں۔چنانچہ اس طرز کے لئے عبدالرشید صاحب آرکیٹیکٹ کو میں نے مقرر کیا۔چنانچہ انہوں نے جائزہ لینے کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل سے جب کام شروع کرایا تو بہت ہی زیادہ گند نکلا ہے۔اتنا کہ بعض خدام اور بعض انصار بھی بیمار پڑ گئے۔نہایت خطرناک بد بو اور تعفن تھا جسے صاف کرنا پڑا اور خمینے سے بہت زیادہ لا ریاں بھر بھر کے یہاں سے باہر بھیجنی پڑیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ کام پایہ تکمیل کو پہنچا ہرقسم کی احتیاطیں برقی گئیں۔جتنا ایک کمپنی نے تخمینہ لگایا تھا اس سے کچھ بڑھ کر کام نکلا اور کچھ اور حصے بھی عمارت کے تلف کرنے پڑے اور ان سب کے بعد پھر از سرنو ہمارے ربوہ سے آئے ہوئے دو بہت ہی عمدہ کام کرنے والے واقفین زندگی نے آکر تعمیری کام شروع کیا۔انہوں نے مستقل تو زندگی وقف نہیں کی ہوئی لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے احسان اور عزیز دونوں ہی وقف کی روح کے ساتھ یہاں تشریف لائے تھے اور ان پر کھول دیا گیا تھا کہ آپ کوئی عام مزدوری کرنے والے لوگ نہیں ہیں۔اس غرض سے آرہے ہیں کہ خدمت دین کرنی ہے جتنی بھی خدا تو فیق عطا فرمائے۔چنانچہ انہوں نے اگر چہ شروع میں چھ مہینے سال کا خیال تھا لیکن انہوں نے ہر گز واپسی کا نہ صرف مطالبہ نہیں کیا بلکہ مسلسل مجھے یاد دہانی کراتے رہے کہ وقف کی روح کے ساتھ آئے ہیں جب تک خدمت کی ضرورت ہے وہ