خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 224 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 224

خطبات طاہر جلدے 224 خطبہ جمعہ یکم اپریل ۱۹۸۸ء اس لئے جہاں تک نصیحت کا تعلق ہے وہ تو اختیار کی ہی جائے گی اور یہاں کی جماعت کو دوسری جماعتوں کو بھی میں نصیحت کر رہا ہوں کہ بہت زیادہ منظم تربیت کے پروگرام بنانے چاہئے اور تمام آنے والوں پر اس پہلو سے بڑی گہری نظر رکھنی چاہئے لیکن اگر یہ تربیت فائدہ نہ دے۔اگر اس کے نتیجے میں اپنے اخلاق اور کردار میں باہر سے آنے والے نمایاں پاک تبدیلی پیدا نہ کریں تو پھر لازماً ہمارے لیے آپریشن کے سوا چارہ باقی نہیں رہتا۔اس صورت میں بہتر ہے کہ ہم ان کو جماعت سے علیحدہ کر کے کم سے کم اسلام کو اور احمدیت کو بدنامی سے بچائیں اور ان کواس عظیم عالمی پروگرام کی راہ میں حائل نہ ہونے دیں جو احمدیت میں تمام قوموں کو ایک ہی معاشرے میں تبدیل کرنے کے لیے بنایا ہے۔اگلی صدی میں اب ایک سال بھی باقی نہیں رہا کہ وہ شروع ہو جائے گی یعنی احمدیت کی انگلی صدی اور اس پہلو سے جوں جوں وقت قریب آ رہا ہے میری فکریں بڑھ رہی ہیں کہ اگر خدانخواستہ ہم نے غیر معمولی تبدیلی پیدا کئے بغیر یعنی اصلاحی تبدیلی پیدا کئے بغیر اگلی صدی میں قدم رکھا تو اگلی صدی کے بعد میں آنے والوں کا کیا حال ہوگا۔یہ کوئی معمولی فکر نہیں ہے اور کوئی معمولی بات نہیں ہے جسے آپ سن کر ٹال دیں کہ ہاں جی یہ بھی ایک فکر ہے۔اگر آپ واقعاتی طور پر مشاہدہ کریں تو جس صدی کے آخر پہ ہم پہنچے ہوئے ہیں۔اُس صدی کے آغاز پہ پیدا ہونے والے احمدیوں کے عظیم الشان مقامات ہیں۔اس صدی کے سر پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کھڑے ہیں۔اس صدی کے سر پر حضرت خلیفہ امسیح الاول رضی اللہ عنہ کھڑے تھے، اس صدی کے سر پر حضرت خلیفتہ اسیح الثانی بچپن سے جوانی میں سر نکال رہے تھے ، اس صدی کے سر پر عظیم الشان صحابہ تھے جو تقویٰ کے مجسمے تھے ، اُن میں سے ایک ایک ایسا تھا جس کو قوم قرار دیا جا سکتا تھا، قوم بننے کی صلاحیت ان میں موجود تھی عظیم الشان قربانیاں کرنے والے عظیم الشان روحانی انقلاب بر پا کرنے والے لوگ تھے۔انہوں نے دنیا کو حج کیا۔اسلام کی خاطر اور احمدیت کی خاطر اور ہر قربانی کے لیے تیار ہی نہیں ہوئے بلکہ قربانی پیش کر دی ایسے عظیم الشان وجود اس دور میں پیدا ہوئے کہ آئندہ اس وقت تک انسان کھڑے ہو کے سوچے تو یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ ان کی دوسری یا تیسری یا چوتھی نسل میں ایسے لوگ بھی پیدا ہو سکتے ہیں جو ان سب قدروں کو بھلا دیں یا ان کے ہوتے ہوئے اس صدی کے بگڑنے کا کسی قسم کا کوئی سوال پیدا ہولیکن سالوں کا جو گزرنے کا طریق ہے وہ اچھی چیزوں کو مٹاتے چلے جاتے ہیں اور بری