خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 221 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 221

خطبات طاہر جلدے 221 خطبہ جمعہ یکم اپریل ۱۹۸۸ء میں کہنا چاہئے غربت نے ایک لمبا عرصہ تک لوگوں کو مجبور کیا ہو کہ وہ جھوٹ سے کام لے کر فائدے اٹھا ئیں۔جہاں بدقسمتی سے سارے ملک کی طرز عمل یہ ہو کہ سچ کی قیمت نہ پڑے اور جھوٹ کی قیمت پڑتی ہو ایسے ملکوں میں غربت اور جھوٹ کا ایک گہرا رشتہ قائم ہو جاتا ہے اور بدقسمتی سے غریب طبقے میں جھوٹ زیادہ پھولنے پھلنے لگتا ہے۔چنانچہ یہ وجوہات بھی ہیں اور بھی بہت سے محرکات ہیں جن کے نتیجے میں میرا عمومی تاثر یہ ہے کہ جرمنی میں آنے والے احمدیوں میں بعض وہ کمزوریاں زیادہ ہیں جو بین الاقوامیت پیدا کرنے کی راہ میں حائل ہوسکتی ہیں اور حائل ہو رہی ہیں اور بھی بہت سی بعض عادات ہیں جو براہ راست اُس معاشرے کے نتیجے میں بھی پیدا ہو رہی ہیں اور یہاں آنے کے بعد ان کی بعض مخفی کمزوریاں اور زیادہ بڑھ کر نمایاں ہو کر دکھائی دینے لگی ہیں۔کہتے ہیں عصمت بی بی بیچارگی بعض لوگ با عصمت ہوتے ہیں اس لیے کے بیچارے ہوتے ہیں ان کا بس ہی کوئی نہیں ہوتا جہاں بس چلے وہاں وہ مخفی خواہشیں مخفی ارادے ایک دم اُبھر کے سامنے آ جاتے ہیں۔چنانچہ بعض نیکیاں جو ہمیں اپنے ملک میں دکھائی دیتی تھیں وہ بیچارگی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی نیکیاں تھیں۔جب ایک غیر ملک میں وہ لوگ آئے اور یہاں آکے انہوں نے دیکھا کہ سب کچھ ہو سکتا ہے کوئی پکڑنے والا نہیں ، کوئی پوچھنے والا نہیں بلکہ نہ کرنے کے نتیجے میں زیادہ انسان کمتر سمجھا جاتا ہے۔اگر یہ چیزیں کرو تو سوسائٹی میں بڑارتبہ ملتا ہے۔تو اچا نک روکیں ٹوٹنے کے نتیجے میں جب بیچارگی نہیں رہتی تو عصمت بھی نہیں رہتی۔اس سے پتا چلتا ہے کہ وہ نیکی جو وہاں نیکی دکھائی دیتی تھی وہ دراصل نیکی نہیں تھی بلکہ بے اختیاری کا نام نیکی تھا بے چارگی کا نام عصمت تھا۔اس پہلو سے مجھے کثرت سے اطلاعیں ملتی رہتیں ہیں کہ بعض خاندان جو ہجرت کر کے جرمنی میں آگئے وہاں اُن کے متعلق کسی قابل اعتراض طرز عمل کی اطلاع نہیں ملا کرتی تھی مگر یہاں آنے کے بعد جب انہوں نے سمجھا کہ یہاں کھلا معاشرہ ہے، ہر قسم کی آزادی ہے تو بے اختیار وہ آزاد ہوئے اور بد چیز کو جب آزاد کیا جاتا ہے تو وہ عام حدود سے تجاوز کر کے زیادہ پھیلتی ہے۔یہی بم بنانے کا فلسفہ ہے۔چھوٹی جگہ کسی طاقتور چیز کو قید کیا جائے تو جب وہ بالآخر پھٹتی ہے تو عام حد سے بھی تجاوز کر کے زیادہ پھیل جاتی ہے۔چنانچہ ایسے بعض خاندانوں کا بھی پتا چلا کہ وہاں یعنی پاکستان میں اچھے بھلے شریف اطوار والے خاندان تھے مگر یہاں آتے ہی صرف پردہ ہی نہیں ٹوٹا بلکہ ہر دوسری چیز میں، ہر