خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 215
خطبات طاہر جلدے 215 خطبہ جمعہ یکم اپریل ۱۹۸۸ء جماعت احمدیہ نے عالمی معاشرہ قائم کرنا ہے۔اپنی علاقائی غیر اسلامی بری عادات مثلاً جھوٹ کو ختم کریں ( خطبه جمعه فرمودہ یکم اپریل ۱۹۸۸ء بمقام ناصر باغ فرینکفورٹ جرمنی ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: انگریزی میں ایک مقولہ ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ مشرق مشرق ہی ہے اور مغرب مغرب ہی اور یہ دونوں کبھی نہیں ملیں گے۔اس مقولے کو بہت گہرائی حاصل ہے اور بظاہر یہ سرسری بات ہے لیکن حقیقت میں اس مقولے کی شہرت کی وجہ یہی ہے کہ اس میں مضمون کی بہت گہرائی پائی جاتی ہے اور ایک ایسی پیشگوئی کی گئی ہے جو قومی رحجانات کے گہرے مطالعہ کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے۔بظاہر تو ہم یہ دیکھتے ہیں کہ مشرق مغرب سے مل رہی ہے اور مغرب مشرق سے۔یہاں جو آج خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ایک بڑا اجتماع ہو رہا ہے۔یہ بھی اس بات کا مظہر ہے کہ مشرق اور مغرب میں ایک دوسرے کے ساتھ امتزاج کے آثار پیدا ہورہے ہیں۔اقوام متحدہ میں بھی بظاہر یہی کوشش دکھائی دیتی ہے کہ مشرق اور مغرب ہم آہنگ ہو جائیں اور ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح امتزاج پکڑ لیں کہ گویا رفتہ رفتہ ایک ہی انسانیت ظہور پذیر ہو۔بہت سی غیر قو میں جرمنی میں آکے آباد ہوئی ہیں۔ان میں ترک بھی ہیں، ان میں افریقین قو میں بھی ہیں ،ان میں کو ئیز بھی ہیں، ان میں پاکستانی ، ہندوستانی ، بنگلہ دیش سے آئے ہوئے لوگ ،چین کے بھی اور چند ایک جاپان کے بھی غرضیکہ جرمن قوم نے اپنے وسیع حو صلے کے نتیجے میں بہت