خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 16
خطبات طاہر جلدے 16 خطبه جمعه یکم جنوری ۱۹۸۸ء سنجیدگی سے شروع کریں اور قربانی کیلئے تیار رہیں اگر بغیر قربانی کے مفت میں حاصل کرنے کی کوشش کریں گے تو ہماری دعاؤں میں اتنا اثر نہیں ہوگا۔دعا کریں اور عرض کریں خدا سے کہ ہم تو اب تیار ہو گئے ہیں اب تو ہماری مدد فرما۔ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ اکثر ابتلاؤں سے بچالیا کرتا ہے اور جو کچھ ابتلا ء پیش بھی آئیں اسکی بہترین جزا عطا فرمایا کرتا ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔اب میں آپ کو حضور اکرم کی بعض نصیحتوں سے آگاہ کرتا ہوں تا کہ آنحضور ﷺہے کے اپنے الفاظ میں آپ کو جمعہ کی اہمیت کا علم ہو سکے۔آپ نے فرمایا من تــرك الـجمعة ثلاث مرات تهاونا بها طبع الله على قلبه ( ترندی کتاب الجمعہ حدیث نمبر ۴۶۰) آپ نے فرمایا جو تین جمعہ مسلسل چھوڑ دے تهاونا بها یعنی جمعہ کی تخفیف کرتے ہوئے اس کی اہمیت نہ سمجھتے ہوئے۔معذوری کی وجہ سے نہیں بلکہ سمجھے کہ کوئی فرق نہیں پڑتا بے شک چھوڑ دو طبع الله علی قلبه اللہ اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔قرآن کریم میں جب اللہ کی طرف سے لگی ہوئی مہر کا ذکر پڑھتے ہیں تو کیسا کانپ جاتے ہیں اور کیسا خوف کھاتے ہیں ان لوگوں کی اس چیز سے کہ نعوذ باللہ من ذالک کہ کسی کے دل پہ مہر لگے تو یہ دیکھ لیں کہ اتنا بڑا جو خدا تعالیٰ کی طرف سے عتاب کا اظہار ہے اس کا جمعہ عمداً چھوڑنے سے تعلق ہے اور اگر چہ قرآن کریم میں اس ضمن میں یہ موجود نہیں مگر سبت کی بے حرمتی کے نتیجے میں یہود کے دلوں پر مہر لگنے کا ذکر ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت محمد مصطفی ﷺ نے استنباط قرآن کریم سے ہی فرمایا ہے اور اس نصیحت کی جڑ قرآن کریم میں موجود ہے جو قو میں اپنے اہم مذہبی دن سے غافل ہو جائیں اس سے بے حرمتی کا سلوک کریں بالآخر ان کے دلوں پر مہریں لگا دی جاتی ہیں۔لينتهين اقوام عن ودعهم الجمعات اوليختمن الله على قلوبهم ثم ليكونن من الغافلين (مسلم کتاب الجمعہ حدیث نمبر: ۱۴۳۲) یہ حیح مسلم میں حدیث ہے مختلف الفاظ میں وہی مضمون بیان ہوا ہے کہ قومیں اس بات سے باز رہیں کہ وہ اپنے جمعوں کو چھوڑ دیں اس سے بھی صاف پتا چلتا ہے کہ مستقبل کے خطرات آنحضرت ﷺ کے پیش نظر تھے اور قرآن کریم میں جو پیشگوئی ہے۔وہ مستقبل کی پیشگوئی ہے اس سے آپ کو خیال آیا کہ جب مسلمان کئی قوموں میں بٹ جائیں گے۔تو اس وقت یہ خطرات ہوں گے کہ وہ جمعہ کے دن کی اہمیت سے غافل ہو جائیں۔فرمایا یا تو وہ اس بات سے باز رہیں کہ وہ جمعہ کو ترک کر دیں یا پھر ضرور خدا تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا اور پھر وہ غافل ہو جائیں گے۔