خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 204 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 204

خطبات طاہر جلدے 204 خطبه جمعه ۲۵ مارچ ۱۹۸۸ء پاؤنڈ ملتے ہیں وہ بھی ان سے چھین لیتے ہیں کہ ہمیں دو ہم انتظام چلا ئیں گے۔بازار سے سبزی روٹی لے آئے اور سمجھا کہ ہم نے بیوی کا حق ادا کر دیا ہے۔بیوی کے پیسے پر نظر کی تو قرآن کریم اجازت ہی نہیں دیتا سوائے اس کے کہ وہ خوشی سے اپنے شوق سے اپنے پیار اور محبت کے نتیجے میں خود دے اور اس معاملے میں عورتوں کو خدا تعالیٰ نے غیر معمولی طور پر بڑا حوصلہ عطا فرمایا ہے۔وہ مرد جو اپنی عورتوں سے محبت کرتے ہیں ، ان کا خیال رکھتے ہیں، ان سے حسن خلق سے پیش آتے ہیں وہ عورتیں اپنا کچھ بھی نہیں پھر بیچاری۔جو کچھ ہے وہ کھلا ان کے سامنے رکھ دیتی ہیں۔اس کی سب سے عظیم الشان مثال ہمیں حضرت اقدس محمد مصطفی میت ہے کے اپنے تعلقات میں نظر آتی ہے۔حضرت خدیجہ بہت ہی دولت مند تھیں اور قریش کی غالبا سب سے زیادہ دولتمند عورت وہی تھیں۔وہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کے اخلاق سے خوب واقف تھیں کیونکہ آپ ان کے ماتحت انہی کا کام کیا کرتے تھے۔جب شادی ہوئی ہے تو پہلی رات آپ نے اپنا سب کچھ آپ کی خدمت میں پیش کر دیا اور اتنے کامل یقین کے ساتھ پیش کیا ، اتنی خلوص نیت کے ساتھ پیش کیا کہ جب حضرت محمد مصطفی امیہ نے وہ سارا مال غرباء میں تقسیم کر دیا تو ایک اُف تک نہیں کی۔کبھی شکوہ زبان پر نہیں لائیں کیونکہ آپ کچی خاتون تھیں اور سچائی کے بلند ترین مقام تک پہنچی ہوئی تھیں۔اس لئے آپ نے سچائی کو دیکھ کر ایک سچا فیصلہ کیا اور فرمایا اگر ایسا صاحب اخلاق انسان ہے اس نے کبھی بھی میرے مال پر کوئی نظر نہیں کرنی ایک ہی طریق ہے کہ میں اپنا سب کچھ اس کو حاضر کر دوں اور رسول اکرم یہ جانتے تھے کہ یہ بچی عورت ہے۔اگر آپ یہ نہ جانتے تو کبھی کارروائی نہ فرماتے جو آپ نے وہ مال لیتے ہی آگے فرمائی۔اگر آپ کے دل میں ادنی سا بھی شبہ ہوتا ہے کہ ان کی نیت یہ ہے کہ میں دیتی تو ہوں مگر برابر خرچ کرنا ہے گھر پر تو آپ ہرگز وہ فعل نہ کرتے جو آپ نے کیا۔عظیم الشان صداقت کی دو گواہیاں ہیں جو ازدواجی تعلقات میں اتنی روشن ہیں کہ آسمان صلى الله کے ستاروں سے بڑھ کر روشنی رکھتی ہیں اور آنحضرت میہ کے خلق اور حضرت خدیجہ کے خلق کو سمجھنے کے لئے یہ ایک ہی واقعہ صاحب بصیرت کے لئے کافی ہو سکتا ہے۔آپ نے حضرت محمد مصطفی میت ہے کے سامنے سب کچھ پیش کر کے نہ صرف یہ ثبوت دیا کہ آپ کے نزدیک سب سے با اخلاق اور اخلاق