خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 203 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 203

خطبات طاہر جلدے 203 خطبه جمعه ۲۵ / مارچ ۱۹۸۸ء عورتوں پر بعض لوگ اتنی جلدی کرتے ہیں بدتمیزی کرنے میں اور ہاتھ اٹھانے میں کہ حیرت ہوتی ہے اور بعض دفعہ تو مسلسل اس بیچاری کو لونڈی بنا کر یہ سمجھایا جاتا ہے کہ تم مجھ سے نیچے ہو اور تمہیں بنایا اس خاطر گیا ہے کہ تم میری نوکری کرو اور میں تمہارے ساتھ ذلت کا سلوک کروں۔خدا تعالیٰ نے جہاں مرد کی فضیلت کا ذکر کیا قرآن کریم میں وہاں اس کی ایک وجہ بھی بیان فرمائی۔یہ نہیں فرمایا کہ وہ ویسے افضل ہے فرمایا اس پہلو سے افضل ہے کہ وہ اپنی بیوی پر خرچ کرتا ہے اس کی حاجات کا خیال رکھتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس مضمون کو یوں بیان فرماتے ہیں کہ گویا ایک پہلو سے مرد و عورت کا نوکر بنا دیا گیا۔وہ خدمتیں کرتا ہے ، محنت سے کام لیتا ہے باہر جا کے اس لئے کہ اپنی بیوی کی ضروریات پوری کرے۔خدمت کی فضیلت مراد ہے۔اس راز کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کھولا چنانچہ میں آگے ایک اقتباس پڑھوں گا اس میں آپ یہ الفاظ دیکھیں گے تو حیران رہ جائیں گے کہ اس کا مطلب کیا ہے۔مطلب میں نے بتا دیا آپ کو مطلب اس کا یہی ہے کہ جو شخص یعنی خدا تعالیٰ نے مرد کو اس لئے پیدا کیا یا اس کے فرائض میں اس بات کو داخل فرمایا کہ وہ بہت محنت کرے اور اس کی محنت کا آخری مقصود یہ ہو کہ اپنے گھر پر اپنی بیوی کے آرام پر، اس کی آسائش پر، اس کی خواہشات پوری کرنے پر اور اپنے بچوں کی ضروریات پر اس محنت کے ماحصل ، اس کے پھل کو خرچ کریں۔تو نوکری اور کیا چیز ہوا کرتی ہے اور سچی نوکری میں ہی فضیلت ہے۔چنانچہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے فرمایا: سیدالقوم خادمهم (الجهادلا بن المبارک کتاب الجہا د حدیث نبر ۲۰۷) خدمت کے ذریعے سیادت نصیب ہوئی۔اس فضیلت کا قرآن کریم نے ذکر فرمایا ہے۔خدمت کی بجائے آپ عورت کے پیسے چھینے شروع کر دیں اور اس کی کمائی پر نظر رکھیں اور شادی کے وقت یہ غور کریں کہ فلاں عورت ڈاکٹر ہے ، فلاں عورت استانی ہے گھر میں آئے گی تو اس کی تنخواہیں لے کر ہم اپنی زندگی سنواریں گے اور اپنے ماں باپ اور اپنے بہن بھائیوں پر خرچ کریں گے تو نہ آپ اس کے نوکر نہ آپ اس کے سردار، آپ تو ایک لٹیرے بن جائیں گے۔ایک ایسا تعلق قائم کریں گے جس کی خدا اجازت نہیں دیتا اور انگلستان جیسے ملک میں بھی ایسی اطلاعیں ملتی ہیں کہ بعض لوگ اپنی بیویوں پر خرچ کرنے کی بجائے وہ جو حکومت کی طرف سے ان بیچاروں کو چھ سات