خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 196 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 196

خطبات طاہر جلدے 196 خطبه جمعه ۲۵ مارچ ۱۹۸۸ء یہ خیال دل سے نکال دینا چاہئے کہ چھوٹی چھوٹی بداخلاقی کی باتیں ہیں ان سے کیا فرق پڑتا ہے کیونکہ ہر بد خلقی ایک اپنے منتہا کی طرف جاری ہونے والی چیز ہے۔ متحرک چیز ہے۔ آج آپ اس میں آگے بڑھ کر کسی انتہائی ذلیل مقام تک نہ بھی پہنچیں تو آپ کی اولا دوہاں سے اس بدی کو پکڑے تک نہ بھی تو سے گی جہاں آپ نے چھوڑا تھا اور اسے لے کر آگے بڑھے گی۔ پھر وہ نسل ختم ہوگی تو اگلی نسل اس بدی کو پکڑے گی اور آگے بڑھائے گی۔ یہاں تک کہ جس طرح إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُونَ میں نیکیاں اپنے منتہا تک پہنچ جاتی ہیں اس طرح یہ تمام بدیاں بھی اپنے منتہا تک پہنچا کرتی ہیں اور پھر قوموں کی ہلاکت کے وقت آجاتے ہیں۔ اس لئے جماعت احمد یہ جس کا سفر بہت لمبا ہے اسے ان معاملات پر بہت زیادہ سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے ۔ وہ قومیں جنہوں نے ایک ہی نسل میں ترقی کرنی ہے اور اپنے مقصد کو حاصل کر لینا ہے ان کی حالت اور ہوا کرتی ہے۔ وہ تو میں جنہوں نے بعض دفعہ نسلاً بعد نسل صدیوں میں جا کر اپنے اس مقصد کو حاصل کرنا ہے جس کی خاطر وہ قائم کی گئی ہیں ان کے لئے لمبے سفر والے آداب اختیار کرنے ضروری ہوا کرتے ہیں، ایسے اطوار اختیار کرنے ضروری ہوتے ہیں کہ جو لمبا عرصہ ان کا ساتھ دیں۔ پس جماعت احمدیہ کے لئے اعلیٰ خلق پر زور دینا بے انتہا ضروری ہے اگر اعلیٰ اخلاق کی جماعت احمد یہ نے اس نسل میں حفاظت نہیں کی تو اگلی نسل کی بھی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی اور اس سے اگلی نسل کی بھی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔ خصوصیت سے جو خطرہ مجھے نظر آرہا ہے وہ یہ ہے کہ ماحول چونکہ بہت تیزی سے گندہ ہو رہا ہے۔ صرف انگلستان یا جرمنی یا جاپان یا چین یا امریکہ کی بات نہیں ہے ہمارے ان ملکوں میں جنہیں آپ مشرقی ممالک کہتے ہیں ایسے ممالک جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ پرانی قدریں ان میں زندہ ہیں تلاش کر کے دیکھیں آپ کو پرانی قدروں کے قبرستان تو وہاں دکھائی دیں گے لیکن پرانی قدریں زندہ صورتوں میں شہروں میں بستی اور چلتی پھرتی دکھائی نہیں دیں سے اعلیٰ اخلاق پر موت وارد ہو رہی ہے جیسے وبا پھیل گئی ہو جو قوموں کو ہلاک کرتی چلی جا رہی ہے۔ ایسی صورت میں جماعت احمدیہ پر اس کے اثرات کا ظاہر ہونا ایک لازمی چیز ہے۔ بعض لوگ امریکہ میں مجھ سے کہتے تھے کہ ہم کہاں جائیں۔ یہاں کے حالات بہت خراب ہیں ہم اپنی نسلوں کی حفاظت کیسے کریں۔ بعض لوگ یورپ میں مجھ سے یہ سوال کرتے ہیں ہم کہاں جائیں کیوں