خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 192 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 192

خطبات طاہر جلدے 192 خطبه جمعه ۲۵ / مارچ ۱۹۸۸ء دیتا ہے اس سے تمہیں کوئی ہدایت نہیں مل سکتی جب تک تمہارا پہلا قدم تقویٰ پر نہ ہو۔چنانچہ فرمایا هُدًى لِلْمُتَّقِينَ (البقرۃ:۳) یہ ہدایت دینے والی کتاب ہے لیکن متقیوں کے لئے اور سارے اسباق اس کتاب میں تقویٰ کے اوپر ہی مبنی ہیں۔تقویٰ ہی کے درس دینے والی کتاب ہے۔تو جس مقام سے آغاز ہوا ہے وہی دراصل آئندہ زندگی کی راہیں متعین کرنے والا مقام ہوا کرتا ہے۔انما الاعمال بالنيات ( بخاری کتاب بدء الوحی حدیث نمبر : 1) میں بھی حضرت اقدس محمد مصطفی اللہ نے یہی عظیم حکمت کا راز ہمیں سمجھایا کہ نیت کے وقت آغاز سفر کے وقت تم اپنے انجام کو خود ہی طے کر لیتے ہو اور بظاہر تم کسی سمت میں بھی حرکت کرو وہ پہلا قدم جو اٹھا ہے اس نے تمہاری آخری سمت معین کر دی ہے اس سے تم پھر اب ہٹ نہیں سکتے۔اس لئے جھوٹ سے سفر کا آغاز کرنے والے کبھی بھی سچائی تک نہیں پہنچتے۔ان کی زندگی میں جھوٹ کا اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے اور دوسری قسم کی بدیاں جو جھوٹ سے پیدا ہونے والی بدیاں ہیں جھوٹ ہی کے مختلف نام ہیں ان میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے اور بالآخر ایسے شخص کا انجام ہمیشہ بد ہوتا ہے جو خدا سے دور ہے۔خدا کا نام حق رکھا گیا ہے جس کا مطلب ہے وہ مجسم سچائی ہے۔اگر چہ حق سے مراد سچائی ہے اور سچ بولنے والا نہیں لیکن خدا تعالیٰ حق ہے ان معنوں میں کہ ہر سچائی اسی سے پھوٹتی ہے، تمام سچائیوں کا سرچشمہ ہے۔اس لئے جھوٹ کو معمولی برائی سمجھنا ایک بہت بڑی غلطی ہے۔جھوٹ کے نتیجے میں جو برائیاں پیدا ہوتی ہیں ان کی تفصیل میں یہاں جانے کا وقت نہیں اس سے پہلے بھی بعض خطبات میں اس مضمون پر میں روشنی ڈال چکا ہوں۔اب میں عموماً اخلاق حسنہ سے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔اخلاق حسنہ انسانی زندگی کو سنوارنے کے لئے اور معاشرے کو سنوارنے کے لئے بہت ہی ضروری ہیں۔امر واقعہ یہ ہے کہ جو شخص اخلاق حسنہ سے مزین نہ ہو وہ کبھی بھی خدا کو نہیں پاسکتا۔جس طرح سچائی اور جھوٹ کے درمیان ایک بعد ہے اسی طرح بدخلقی اور خدا کے درمیان ایک بعد ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کو صفات حسنہ بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى (الحشر: ۲۵) قرآن کریم نے یہ راز ہمیں بتایا کہ اس کے تمام نام حسین ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جس خلق میں بھی انسان خدا سے ہٹے گا اسی کا نام بد خلقی ہے اور بدخلقی اور حسن خلق اکٹھے نہیں ہو سکتے