خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 188
خطبات طاہر جلدے 188 خطبه جمعه ۱۸ / مارچ ۱۹۸۸ء دفعہ جب آپ جھوٹ کا تجزیہ کریں گے آپ دیکھیں گے کہ ایک آدمی غلط عمل میں پکڑا گیا اور اس غلط عمل کو سچا دکھانے کی خاطر اس کو جھوٹ بولنا پڑا۔اگر یہ بات ہے اور ہے ہی یہ بات تو جب تک احمدی سچا عمل نہیں کرتا اس کی سچائی کی کوئی ضمانت نہیں کیونکہ ایسے بہادر بہت کم دنیا میں ہوتے ہیں جو غلط عمل میں پکڑے جائیں اور پھر سچ بولیں۔اس لئے اگر احمدی نے سچا ہونا ہے تو اس کو سچا عمل کرنا ہوگا۔جھوٹے عمل کے ساتھ سچائی نہیں رہ سکتی اور امر واقعہ یہ ہے کہ زبان پر جو بات جاری ہوتی ہے وہ پہلے دل میں اور عمل میں بنتی ہے۔اگر عمل سچا ہے تو سچائی ظاہر ہوگی اگر عمل جھوٹا ہے تو جھوٹ ظاہر ہو گا۔اس لئے جب میں کہتا ہوں کہ جھوٹ کے خلاف جہاد کرو تو یہ مراد نہیں ہے کہ علامتیں اس کی Suppress کر دو۔جو بیماری کی علامتیں ظاہر ہوتی ہیں ان کو دبا دو بلکہ بیماریوں کو جڑوں سے اکھیڑو۔ان اعمال کے خلاف جہاد کرو جن کے نتیجے میں جھوٹ نے پیدا ہونا ہی ہونا ہے اور پھر ایک دفعہ جب وہ اعمال پیدا ہو جائیں تو پھر جھوٹ کا مقابلہ کرنا بہت ہی مشکل ہو جاتا ہے اور اس کے علاوہ بچوں میں شروع میں جرات پیدا کرنی چاہئے۔بچوں میں اگر آپ یہ کام زیادہ توجہ سے کریں تو نسبتاً بہت آسان ہے۔ماؤں کی بہت بڑی ذمہ داری ہے، اسی طرح باپ کی بھی اور بڑے بھائیوں اور بہنوں کی بھی کہ بچپن سے بچوں کو سچائی پر قائم رکھیں مذاق میں بھی نہ اس کو جھوٹ بولنے دیں اور جب وہ جرم کرتا ہے اور سچ بولتا ہے تو اس کو معاف کریں، اس پہنچتی نہ کریں کیونکہ اگر آپ نے اس کی سچائی پرخی کی تو وہ خوفزدہ ہو کر جھوٹ کی طرف مائل ہو جائے گا۔ایک دفعہ بچہ اگر جھوٹ کی طرف مائل ہو جائے تو پھر اس کو بڑے ہو کر سچائی کی طرف مائل کرنا سچائی کی طرف راغب کرنا بہت ہی مشکل کام ہو جائے گا۔بہرحال یہ ایک تفصیلی مضمون ہے اس کی دو بنیادیں میں نے آپ کو بتادی ہیں۔پہلی بنیاد جھوٹ کی شرک کے اوپر قائم ہے۔غیر اللہ کا خوف اور جب غیر اللہ کا خوف اللہ کے خوف سے ٹکراتا ہے تو اللہ کا خوف دب جاتا ہے اور غیر اللہ کا غالب آجاتا ہے اس وقت لاحول کہنے کی انسان کو پھر کوئی حق باقی نہیں رہتا۔جب کہتے ہیں لا حول ولا قوة جب حول غیر کا آ گیا تو الا باللہ کا سوال ہی باقی نہیں رہا۔اسی طرح لاالہ کا مضمون بھی اسی کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔جب آپ نے دوسرے کو الہ مان ہی لیا تو پھر لا الہ الا اللہ کا کوئی مضمون باقی نہیں رہا۔تو شرک کے خلاف جہاد اور جھوٹ کے خلاف جہاد اس لحاظ سے ایک ہی چیز کے دو نام بن جاتے ہیں۔دوسری بات جھوٹ کو اگر آپ نے حقیقی ختم کرنا ہے سوسائٹی سے تو نیک اعمال کی طرف متوجہ کریں، جرائم سے باز رکھیں احمدیوں کو۔ہر قسم کے جرائم کے خلاف جہاد کریں تا کہ احمدی کی زندگی پاکیزہ ہو اس کو ضرورت ہی نہ پڑے جھوٹ بولنے کی۔تیسرے اگر کوئی جھوٹ بولنے پر مجبور ہو جاتا ہے بداعمالی کی وجہ سے تو اس کو خدا کا خوف