خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 167 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 167

خطبات طاہر جلدے 167 خطبہ جمعہ ۱۱ مارچ ۱۹۸۸ء تک پہنچ جانی چاہئے کہ ایک یہ بھی تحریک تھی اور ایک یہ بھی تھی اور ایک یہ بھی تھی اور ایک یہ ہے ابھی بھی۔اس میں جس حد تک خدا توفیق دیتا ہے تم حصہ لو۔آواز کیسے پہنچائی جائے؟ اس میں اول تو جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے جو سیکرٹری ہے کسی کام کا ذمہ دار اس کی براہ راست امیر کونگرانی کرنی چاہئے اور مجالس عاملہ کو عمومی طور پرہل کر اس کام میں دلچسپی لینی چاہئے اس کی مدد کرنی چاہئے اس کو سمجھانا چاہئے کہ کس طرح یہ کام کیا جاتا ہے۔پھر سیکرٹری مال کو بھی متوجہ کر نا چاہئے خصوصیت کے ساتھ کہ دعائیں کرے اور ساری مجلس عاملہ کو بھی تمام عہد یداران جماعت کو اس بارے میں دعا کرنی چاہئے۔دعا کو پتا نہیں کیوں لوگ بار بار بھول جاتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں عمومی دعا ہو رہی ہے حالانکہ ہر کام کو پیش نظر رکھ کر اس کے لئے خصوصیت کے ساتھ توجہ کر کے دعا کرنا بہت زیادہ عظیم الشان فوائد پہنچاتا ہے اور اس تحریک کی کیفیت بدل جاتی ہے جس کے لئے آپ دعا کر رہے ہیں لیکن عمومی دعا سمجھ کے کہ جی اللہ خیر کرے، اللہ جماعت کو اچھا رکھے ، جماعت کو ترقی دے۔تو وہ سمجھتے ہیں کہ ہماری ساری دعائیں ہو گئیں یہ درست نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کو مخاطب کر کے مضمون کو واضح کر کے اس کے سامنے رکھنا چاہئے اس لئے نہیں کہ اس کو علم نہیں ہے اس لئے دعا کا فلسفہ یہ ہے کہ آپ توجہ سے کریں اور پھر پھل دیکھیں اور پھر خدا سے آپ کی محبت بڑھے۔ورنہ تو اللہ کے کام ہیں وہ خود ہی کیوں نہیں کرتا رہتا آپ سے دعا منگوانے کی کیا ضرورت ہے۔آپ جو دعا کرتے ہیں تو دعا کا پھل دیکھتے ہیں، اللہ تعالیٰ سے آپ کا ذاتی پیار کا محبت کا تعلق بڑھتا ہے اور پھر شرک پیدا نہیں ہوتا۔سب سے بڑا دعا کا فائدہ یہ ہے۔غلط نہی نہیں پیدا ہوتی اپنی ذات میں۔انسان کو ہمیشہ یادر ہتا ہے کہ خدا کے کام تھے خدا نے کئے ہیں۔جب تک میں دعا سے محروم تھا میں پھل سے بھی محروم تھا۔جب دعا شروع کی ہے توجہ کی ہے تو اللہ تعالیٰ نے پھل عطا کرنا شروع کیا ہے۔اس کے نتیجے میں جس طرح مالی قربانی کرنے والا مالی قربانی سے خدا کے قریب ہوتا ہے مالی قربانی کی تحریک کرنے والا دعاؤں کے ذریعے خدا کے قریب ہوتا ہے اور اس کے اندر عظیم الشان پاکیزہ تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔جتنے پھل اس کو لگتے ہیں ہر پھل کی جزا اس کو نصیب ہو رہی ہوتی ہے اور توجہ اس کی اپنی ذات کی طرف نہیں رہتی خدا تعالیٰ کی طرف رہتی ہے کہ میری طرف سے نہیں ہوا خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوا ہے۔