خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 166
خطبات طاہر جلدے 166 خطبہ جمعہ ا ا/ مارچ ۱۹۸۸ء فقیروں کی طرح قربانی نہیں کرتے تمہاری قربانی کے معنی کوئی نہیں اور ان قربانیوں کا خدا محتاج نہیں ہے جو تم سمجھتے ہو کہ خدا پر احسان کر رہے ہوا سے ضرورت ہے تم نے پیش کر دیا۔جب تک قربانی کے اندر ہمیشہ پیش نظر یہ بات نہ رہے کہ تم محتاج ہو کہ اللہ تعالیٰ تم سے بھی کچھ قبول کرے اور اس کے نتیجے میں تمہیں اپنی محبت عطا فرمائے اس وقت تک قربانی کے کوئی معنی نہیں ہیں ، کوئی حقیقت نہیں ہے۔ایسا روپیہ ضائع چلا جاتا ہے اور اس پہلو سے بہت زیادہ ضرورت ہے کہ ہم کثرت سے جماعت کے بڑوں ، چھوٹوں کو ہر قربانی میں کسی حد تک ضرور شامل کر لیں۔چنانچہ وہ مالی تحریکات جو اپنے کامیاب اختتام تک اس رنگ میں پہنچ گئیں کہ جن مقاصد کے لئے وہ تحریکات کی گئی تھیں وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے پورے ہو گئے مثلاً یوروپین مراکز ہیں۔ان میں بھی اگر کسی احمدی نے پہلے حصہ نہیں لیا تو اس کو لینا چاہئے اب چاہے بہت تھوڑا لے۔اگر ایک روپے کی توفیق ہے تو ایک روپیہ پیش کرے، ایک آنے کی توفیق ہے تو ایک آنہ پیش کرے اور جماعت کو یہ دیکھنا چاہئے کہ ان تمام تحریکات میں جہاں تک ممکن ہو سکے ساری جماعت حصہ لے لے۔اب آپ زور اس بات پر نہ دیں کہ زیادہ دے، اس بات پر زور دیں کہ زیادہ قربانی کرنے والے اس نظام میں شامل ہوں اور اس پہلو سے ہر قربانی کو خوشی کے ساتھ قبول کریں خواہ قربانی قبول کرنے کی راہ میں آپ کا زیادہ خرچ ہوتا ہو بنسبت قربانی کے۔ایک آنہ اگر کوئی پیش کرتا ہے اس کو آپ سمیٹتے ہیں کمپیوٹر میں ڈالتے ہیں تو اس کے اوپر زیادہ خرچ ہو جاتا ہے آنے سے بھی لیکن آنہ مقصد نہیں ہے۔مقصد یہ ہے اس آنے نے اس کے دل میں یعنی آنہ پیش کرنے والے کے دل میں کیا جذبے پیدا کئے، کیسی خدا کی محبت میں اس نے یہ قربانی پیش کی اور اللہ تعالیٰ اس پر کس طرح پیار کی نگاہیں ڈالنے لگا۔یہ وہ مقصد ہے۔جب مقصد یہ ہے تو پھر ایسے موقع پر وہ مقدار قربانی کی روپوں پیسوں میں نہیں جانچی جاتی بلکہ اس جذبے کے لحاظ سے پر بھی جائے گی جو اس قربانی کے پیچھے جلوہ افروز ہے۔اس لئے یہ بہت ضروری ہے کہ ساری جماعتوں کو دوبارہ اس طرح یاد دہانی کرائی جائے کہ ان کو پتا لگ جائے کہ یہ تحریکات ہوئی تھیں لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا بہت بھاری تعداد ابھی احباب جماعت کی اور خواتین جماعت کی ایسی موجود ہے جن تک مناسب رنگ میں یہ تحریکات پہنچائی نہیں گئیں۔اس لئے وہ پوری ہوگئی ہیں یا نہیں ہوئیں اس سے قطع نظر یہ آواز ضرور ہر احمدی کے کانوں