خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 12 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 12

خطبات طاہر جلدے 12 خطبه جمعه یکم جنوری ۱۹۸۸ء برکتیں پڑتی ہیں۔تو بہر حال حضرت رسول اکرم ﷺ کے ارشادات اور جیسا کہ میں نے قرآن کریم کی آیات میں نے آپ کے سامنے پڑھ کر سنائی ہیں اس کی روشنی میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے اوپر یہ ابتلا آنا تھا کسی زمانے میں کہ جمعہ کے نظام سے غافل ہو جائیں اور یہ جو غفلت ہے یہ بہت بڑی ہلاکت ہے کوئی معمولی ہلاکت نہیں۔آج کل جماعت احمدیہ کو قائم فرمایا گیا ہے تا کہ وہ مسلمانوں کی کھوئی ہوئی عظمتیں دوبارہ حاصل کر کے دیں ، ان کو اس پہلے مقام تک پہنچائیں جس سے وہ گر چکے ہیں اور جمعہ کے معاملے میں میں نہیں سمجھتا کہ ہم ابھی اس بات کے اہل ہیں کیونکہ ہم نے خود بھی وہ مقام ابھی حاصل نہیں کیا یا حاصل کیا تھا تو کچھ حصہ کھو بیٹھے ہیں اور مغربی ممالک میں تو نہایت ہی درد ناک حالت ہے۔اکثر بچے آپ جمعہ پڑھنے نہیں آتے ، اکثر عورتیں جمعہ نہیں پڑھنے آتیں۔عورتوں کے اوپر تو فرض بھی نہیں بچوں کا یہ بھی آپ کہہ سکتے ہیں کہ فرض نہیں مگر دینی تربیت کی خاطر ان کو زندہ رکھنے کے لئے ایک انتہائی ضروری چیز ہے جس سے اگر آپ ان کو بچپن میں محروم کر دیں گے تو جب جمعہ فرض ہوگا تو اس وقت بھی وہ محروم رہیں گے۔چنانچہ آپ یہاں انگلستان میں اور دیگر یورپین ممالک میں جو بڑی نسلیں جمعہ کے عادی نہیں رہیں ان کے ماں باپ کا قصور ہے کہ انہوں نے بچپن میں ان کو عادی نہیں بنایا۔آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہاں ہمارے سکول ہیں ان میں جانا ہوتا ہے اس لئے آپ کیلئے دو Choices یا اختیارات ہیں جس میں سے جس کو چاہیں چن لیں یا تو سکول کو اہمیت دیں دنیا کی تعلیم کو اہمیت دیں یا پھر دین کو اہمیت دیں اور ان کی روحانی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھنے کا فیصلہ کرلیں کیونکہ جمعہ سے غافل بچوں کا کوئی مستقبل نہیں ہے جماعتی لحاظ سے سوائے اس کے خدا تعالیٰ خاص فضل فرما کر اکا دکا کو واپس لے آئے مگر بالعموم نئی نسلیں آپ کی اقدار سے دور ہونا شروع ہو جائیں گی اور یہ تنزل زیادہ تیز رفتار ہوتا چلا جائے گا وقت کے گزرنے کے ساتھ۔اس لئے جمعہ کی طرف غیر معمولی توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔نظام جماعت کو میں نے ایک ہدایت دی ہے اس کی تفصیلات کو یہاں بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔وہ انشاء اللہ تعالیٰ اس بارے میں ایک منظم پروگرام بنائیں گے اور ساری جماعت کے لئے ایک اجتماعی کوشش بھی کریں گے۔حکومت سے رابطے کی، اشتہارات کے ذریعے اخبارات میں پرو پیگنڈے کے ذریعے کہ جو سہولتیں مسلمانوں کو ملنی چاہئیں ان کو میسر آنی چاہئیں۔اس سلسلے میں جیسا کہ میں نے امریکہ میں بھی دوستوں کو توجہ دلائی تھی ایک بہت ہی اہم بات