خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 162 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 162

خطبات طاہر جلدے 162 خطبہ جمعہ ا ا/ مارچ ۱۹۸۸ء اناسی ڈالر کی وصولی ہوئی اور اکاسی ہزار سے رقم بڑھ کر دولاکھ چار ہزار (۲۰۴۰۰۰۰) تک پہنچ گئی۔جس طرح دوستوں نے اس قربانی میں حصہ لیا ہے اس کی چند ایک مثالیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔سب سے پہلے تو جو ان کا طریق کار تھا وہ یہ تھا کہ انہوں نے جو انتظام بنایا اس میں صرف یاد دہانی نہیں کرائی جاتی تھی بلکہ اس خطبہ کی کیسٹ ساتھ بھجوائی جاتی تھی جس میں اس تحریک کے متعلق خصوصیت کے ساتھ جماعت کو توجہ دلائی گئی تا کہ ہر شخص صرف اس تحریری یاد دہانی کے نتیجہ میں ہی اپنے آپ کو تیار نہ کرے بلکہ خلیفہ وقت کی آواز میں خود دوبارہ اس بات کو سنے اور اس کے اجتماعی اثر کے نتیجے میں پھر اس کے اندر جو خدا تعالیٰ تحریک پیدا فرماتا ہے اس سے فائدہ اٹھائے۔چنانچہ اس طریق نے خدا تعالیٰ کے فضل سے جیسا کہ امیر صاحب نے اطلاع دی ہے حیرت انگیز اثر دکھایا اور یہاں تک کہ بعض ایسے طالب علم تھے جنہوں نے دس بارہ سال پہلے اپنے بچپن میں جوش میں آکر اتنا بڑا وعدہ لکھا دیا تھا جس کی ان کو توفیق ہی نہیں تھی۔مثلاً ایک طالب علم نے پانچ ہزار ڈالر کا وعدہ لکھوادیا تھا اور وہ سارا ہی قابل ادا تھا۔جب اس تک یہ آواز پہنچی تو اس نے کچھ تعلیمی قرضہ لیا تھا۔اس نے کہا تعلیم تو دیکھی جائے گی، بعد میں ہوتی رہے گی اب مجھے خدا نے توفیق عطا فرمائی ہے اس قرضہ میں سے میں یہ ادا کر دیتا ہوں۔چنانچہ اس نے اسی تعلیمی قرضہ میں سے پانچ ہزار ڈالر کا چیک فوری طور پر ان کو بھجوا دیا۔یہ مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا انتظام خود فرمائے گا بلکہ بہتر انتظام فرمادے گالیکن جہاں تک ایک طالب علم کی قربانی کا تعلق ہے یہ عظیم الشان قربانی ہے۔اس کو نظر آرہا ہے کہ قرض ہے، حکومت نے دیا ہے تعلیم کی غرض سے دیا ہے لیکن وہ اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے بڑی ہمت کا فیصلہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کو اپنے عہد کو ایفاء کرنے کی توفیق مل جاتی ہے۔ایک دوست ہیں ان کا اور ان کی اہلیہ کا بیس ہزار ڈالر کا وعدہ تھا اور بچوں کا ڈیڑھ ہزار ڈالراس کے علاوہ تھا اور جب تحریک ہوئی ہے دوبارہ یعنی ابھی گزشتہ سال کہ خصوصیت سے اس چندے کی طرف توجہ کرو تو معلوم ہوا کہ ان کی اکثر ادا ئیگی باقی تھی اور وہ بھول چکے تھے اس وعدے کو عملاً۔انہوں نے بھی دعا کی اور ہمت کی۔اللہ تعالیٰ نے خود ان کا انتظام فرمایا اور گزشتہ سال ہی انہوں نے مکمل ادائیگی ہیں ہزار ڈالر کی کر دی۔ایک اور دوست ہیں ان کو جب توجہ دلائی گئی تو پتا چلا کہ ان کا اکیس سو کا وعدہ تھا اور وہ سارا ہی