خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 159
خطبات طاہر جلدے 159 خطبہ جمعہ ۱۱ مارچ ۱۹۸۸ء ہوں۔اگر بوجھ کو تقسیم کر دیں اور مرتب کر لیں اور مختلف قسم کی ٹیمیں بنالیں اور بیک وقت وہ سب کام شروع کر دیں تو چند ماہ کے اندر اندر خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ساری دنیا میں اس کام کی تیاری مکمل ہو سکتی ہے۔اس لئے ان دو حصوں کی طرف بڑی خصوصیت کے ساتھ توجہ دینی چاہئے۔ایک دفعہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے ایک کام سپرد کیا کہ اگر کہا جائے کہ دس لاکھ آدمیوں تک اتنی دیر میں تم نے فوراً پیغام پہنچا دینا ہے تو کس طرح کر سکتے ہو۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجھے توفیق ملی ، ہم نے بیٹھ کر ٹیمیں بنالیں تقسیم کار کر دی اور مختلف علاقوں میں مختلف آدمی ایسے مقرر کر دیئے جو سو سو پرنگران تھے۔پھر سو سو نے آگے دس دس تک اپنا لٹریچر پہنچانے کی ذمہ داری قبول کر لی اور ان دس نے آگے پھر پچاس پچاس ، سوسو جتنی ان کو تو فیق تھی ان تک لٹریچر پہنچانے کی ذمہ داری قبول کرلی۔نتیجہ یہ نکلا کہ ایک آدھ مہینے کی محنت اور کوشش کے نتیجے میں وہ سارا ڈھانچہ تیار ہو گیا جس کے نتیجے میں بڑی کثرت کے ساتھ ملک کے ہر حصے میں ، ہر طبقے تک جماعت کی آواز پہنچائی جاسکتی تھی اور خرچ اس لحاظ سے بہت ہی کم ہو گیا کیونکہ بہت سی جگہ جب آخر پر ایک نوجوان تک یہ بات پہنچی کہ تم نے سارے سال میں دس لفافے پوسٹ کرنے ہیں یا دس پارسل بھجوانے ہیں اور ان کے پتہ جات ہم تمہیں مہیا کر دیں گے اور جب تمہیں لٹریچر مہیا کیا جائے گا تم نے آگے بھجوانا ہے تو اس نے یہ پسند نہ کیا کہ اس کو اس کی Postage کا خرچ دیا جائے اور اکثر صورتوں میں یہ کام بھی مفت ہو گیا جس کے اوپر صرف تقسیم کے لئے لاکھوں روپیہ کی ضرورت در پیش تھی۔چنانچہ مختصر وقت میں جماعت نے پہلے بھی بڑی تیزی کے ساتھ بڑے وسیع پیمانے پر لٹریچر تقسیم کرنے کا کام کیا ہے جس پر حکومتیں ششدر رہ گئی ہیں۔وہ حیران رہ گئے ہیں ان کو وہم و گمان بھی نہیں تھا کہ ایک کمزور سی جماعت جس کو وہ تھوڑا سمجھتے تھے وہ چند دنوں میں اتنا عظیم الشان کام کر سکتی ہے۔یہ ایک دفعہ نہیں کئی دفعہ ایسے واقعات ہو چکے ہیں۔تو وہی جماعت ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جو ساری دنیا میں اسی جذبے کے ساتھ موجود ہے صرف اس کو منظم کرنے کی ضرورت ہے اور ذمہ دار افسروں کا حکمت کا استعمال کرنا سب سے اہم کام ہے۔حکمت کے بغیر کوئی محنت کام نہیں کرسکتی۔چنانچہ کا موں کوتقسیم کرنا اور مرتب کرنا یہ ہے سب سے اہم ضرورت آج کی جس کی طرف میں جماعت کو متوجہ کرتا ہوں۔