خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 11
خطبات طاہر جلدے 11 خطبه جمعه یکم جنوری ۱۹۸۸ء تعلیم اور احمدیت کی تربیت کے علاوہ دنیا کا شعور بھی اس کو حاصل ہو جایا کرتا تھا۔چنانچہ بہت سے احمدی طلباء جب مختلف مقابلے کے امتحانات میں اپنی تعداد کی نسبت زیادہ کامیابی حاصل کرتے تھے تو بہت سے افسر ہمیشہ تعجب سے اس بات کا اظہار کیا کرتے تھے کہ احمدی طلباء میں وہ کیا بات ہے کہ ان کا دماغ زیادہ روشن نظر آتا ہے، ان کو عام دنیا کا زیادہ علم ہے، ان کے اندر مختلف علوم کے درمیان ربط قائم کرنے کی زیادہ صلاحیت موجود ہے۔اس مسئلے کو ایک دفعہ مولوی ظفر علی خان صاحب نے بھی چھیڑا۔ایک موقع پر انہوں نے کہا کہ تم مرز محمود کا کیا مقابلہ کرتے ہو۔مرزا محمود نے جواحمدیوں کی جس طرح تربیت کی ہے جس طرح ان کو تعلیم دیتا ہے۔ان کا یہ حال ہے کہ اگر کوئی سیاستدان یہ سمجھتا ہو کہ مجھے بڑی سیاست آتی ہے لیکن اگر اس نے اس نے سیاست بھی سیکھنی ہو تو قادیان سے بٹالہ تک کسی قادیان والے کے یکہ پر بیٹھ کر سفر کرے تب اس کو سمجھ آئے گی کہ سیاست ہوتی کیا ہے۔قادیان کا یکہ بان بھی سیاست دانوں کو سیاست کے گر سمجھا سکتا ہے۔یہ اس نے حضرت مصلح موعود کو خراج تحسین دیا حالانکہ شدید دشمن تھا اور واقعہ یہ ہے کہ یہ خراج تحسین دراصل جمعہ کی Institution کو تھا۔جمعہ کے ذریعے یہ ساری تربیت ہوتی تھی ہر جمعہ پر شوق سے بڑی دور دور سے لوگ اکٹھے ہو کر آیا کرتے تھے۔مسجد بھر جاتی تھی Overflow گلیوں میں بیٹھ جاتا کرتا تھا۔ہمارے گھر بھی صبح سے شام تک خواتین کا اجتماع رہتا تھا بچے ،عورتیں مسجد کے ایک حصے میں عورتوں کی جگہ تھی اس کے ساتھ ہمارا گھر ملا کرتا تھا۔ساتھ کا کوٹھا بھر جاتا تھا وہ سمن بھر جاتا تھا اس سے پر لے صحن تک پہنچ جایا کرتا تھا اور وہ سارا دن کثرت کے ساتھ ہمارے گھروں میں دوسرے لوگوں کے ہجوم کا دن ہوا کرتا تھا۔اس سے بچپن میں تکلیف بھی پہنچتی تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے بعد میں عقل دی کہ یہ تو بڑی نعمت تھی جو حاصل رہی۔اس سے زیادہ مبارک اور تکلیف کیا ہوسکتی ہے کہ خدا کے ذکر کی خاطر لوگ ہمارے گھروں میں اکٹھے ہوں۔اس کی وجہ سے جماعت کی عام تربیت ایسی ہوئی ہے اور احمدی طلباء کی ایسی تربیت ہوئی کہ جیسا کہ میں نے بیان کیا کہ دنیا کے ہر میدان میں ترقی کے زیادہ اہل ہو گئے اور دشمن یہ حسد کرنے لگا کہ احمد یوں میں کوئی چالا کی ہے، کوئی ہوشیاری ہے یا اپنی طاقت ، اپنی نسبت سے زیادہ نوکریاں حاصل کر جاتے ہیں اپنی نسبت سے زیادہ برکتیں حاصل کر جاتے ہیں دنیا کے مفادات حاصل کر جاتے ہیں حالانکہ ان کو یہ نہیں پتا تھا کہ یہ جمعہ کی برکتیں ہیں اور ایسی جمعہ کی برکتیں ہیں جہاں خدا تعالیٰ کی طرف سے جاری کردہ امامت کا نظام جاری ہو چکا ہے۔جہاں خلافت کا منصب قائم ہے۔ایسے جمعہ میں خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ غیر معمولی