خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 149 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 149

خطبات طاہر جلدے 149 خطبه جمعه ۴ / مارچ ۱۹۸۸ء تو اللہ تعالیٰ ہمیں تو فیق عطا فرمائے گا انشاء اللہ کہ ہم ان چیزوں سے استفادہ کریں اور پھر ساری دنیا تک اسلام کا پیغام پہنچا ئیں۔وہ پیغام جب افریقہ کی شکل میں ابھرے گا اور افریقن قوم اس پیغام کو لے کر نکل کھڑی ہو گی سب دنیا میں تو پھر آپ دیکھیں گے کتنے عظیم الشان انقلاب برپا ہوتے ہیں اور ابھی سے اس کے آثار ظاہر ہونے شروع ہو گئے ہیں۔تو یہ میرا پیغام ہے۔میں امید رکھتا ہوں ، امید کیا مجھے یقین ہے ایک ذرہ بھی شک نہیں کہ یہ وہی جماعت ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا معجزہ ہے اور اس جماعت سے کبھی بھی کسی خلیفہ وقت کو مایوسی نہیں ہو سکتی۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا: کچھ مرحومین کی نماز جنازہ کی درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔نماز جمعہ کے معاً بعد انشاء اللہ یہ نماز جنازہ غائب پڑھائی جائے گی۔مکرم چوہدری عطاء اللہ خان صاحب ریٹائرڈ ٹیچر تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان حال ربوہ ۱۳ دسمبر کو حرکت قلب بند ہو جانے سے وفات پاگئے۔بڑے مخلص فدائی آدمی تھے، بڑے منکسر المزاج ، سادہ۔اللہ تعالیٰ غریق رحمت فرمائے۔مکرمہ اقبال بیگم صاحبہ اہلیہ سردار محمد یوسف صاحب جو ایڈیٹر نور کے نام کے ساتھ مشہور تھے اور جب تک وہ نور رسالہ ہمیشہ دنیا میں باقی رہے گا پرانے قیمتی مضامین سمیت آپ کا نام بھی باقی رہے گا انشاء اللہ۔ان کی بیگم صاحبہ کی وفات کی اطلاع ملی ہے ۲۰ فروری ۱۹۸۸ء کولاہور میں وفات پاگئیں۔محترمہ حمیدہ بیگم صاحبہ اہلیہ رشید احمد صاحب نائیک ۲۶ فروری کو چنیوٹ ایک بس کے حادثہ میں وفات پائی۔انگلستان سے ہی ہمارے ایک دوست تشریف لے گئے تھے اور بڑا دردناک واقعہ یہ ہے کہ ان کی خالہ تھیں ان کو ملنے کے لئے آئی تھیں تا کہ الوداع کہہ سکیں اور غالبا ملنے سے پہلے ہی اس حادثہ میں شہید ہو گئیں۔مکرم محمد سلیمان صاحب کھاریاں ، مکرمہ نذیر بیگم صاحبہ اہلیہ ملک عبداللہ خان صاحب سمبڑیال، مکرمہ بشری خانم صاحبہ، مبشر احمد صاحب جرمنی میں ہیں انہوں نے درخواست کی ہے ان کی ہمشیرہ تھیں۔مکرم سید منور حسین شاہ صاحب ہمارے ایک مخلص انگلستان کی جماعت کے دوست ریحان محمود صاحب کے والد تھے اور ان کی دوسری شادی سید منور حسین شاہ صاحب کی چوہدری فتح محمد