خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 150
خطبات طاہر جلدے 150 خطبه جمعه ۴ / مارچ ۱۹۸۸ء صاحب سیال کی بیٹی امتہ الشافی سے ہوئی۔بہت ہی خدمت کی ہے انہوں نے میں مرحوم کے لئے دعا کی درخواست کرتا ہوں ان کے لئے بھی کرتا ہوں ساتھ ہی بہت ہی عظیم الشان خدمت کی توفیق ملی ہے ان کو۔بڑے صبر کے ساتھ ، بڑی لمبی بیماری دیکھی اور بڑی وفاداری کا سلوک کیا ہے اور ان کے اپنے سوتیلے بچوں سے بھی ایسا پیار کا نمونہ دکھایا ہے جو بعض دفعہ سگی ماؤں کو بھی اس کی توفیق نہیں ملتی۔یہ بھی دعا کی مستحق ہیں۔مکرمہ امتہ اللطیف صاحبہ اہلیہ ڈاکٹر محمد احمد صاحب یہ حمید اللہ شاہ صاحب نے کینیڈا سے اطلاع دی ہے ہمارے ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب کے بڑے صاحبزادے تھے ڈاکٹر محمد احمد ان کی اہلیہ امتہ اللطیف صاحبہ ۲۷ ؍ جنوری کو وفات پاگئی ہیں۔نماز جنازہ کے علاوہ ایک دعا کی درخواست بھی کرنی چاہتا ہوں ایک مریضہ کے لئے وہ ہماری عزیزہ ہیں سعدیہ بیٹی جو میری بیوی کے مرحوم بھائی کی بیٹی ہیں۔امریکہ میں ان کو اچانک دمہ کی تکلیف ہوئی جو اس قدر تیزی سے بڑھی کے پیشتر اس کے کہ ڈاکٹر وہاں پہنچ سکتا وہ اس کی وجہ سے بیہوش ہو کے گری اور پھر کومہ میں چلی گئی ہیں اور ڈاکٹروں کے بیان کے مطابق تقریباً بیس منٹ تک دل کی حرکت بھی بند رہی ہے اور سانس بھی بند رہا ہے لیکن اس کے باوجود جب ڈاکٹروں نے کوشش کی تو دوبارہ دل کی حرکت جاری ہو گئی۔سانس کی مشین پر رکھا ہوا ہے اور ابھی تک وہ جہاں تک دنیا کا سوال ہے ڈاکٹر تو مایوس ہیں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ محض ایک کوشش ہے فرض کے طور پر اس سے زیادہ اس میں کوئی امید نہیں لیکن اللہ تعالیٰ قادر اور توانا ہے اور میں نے دیکھا ہے پہلے کئی دفعہ ایسا ہو چکا ہے کہ ڈاکٹروں نے جس مریض کو کلیۂ لا علاج قرار دیا ہے اسے بھی خدا نے زندہ فرما دیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں تو جو واقعات ایسی کثرت سے ظاہر ہوئے ہیں کہ آدمی حیران رہ جاتا ہے کہ کیسے یہ واقعہ ہوا۔ابھی بھی وہی خدا ہے جماعت کے ساتھ ابھی بھی میں نے دیکھا ہے کئی دفعہ ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں تو مایوسی کا ہمیں حکم نہیں ہے کسی قیمت پر بھی۔ڈاکٹروں کے بیان کے مطابق ایک قسم کا مردہ ہے جسے وہ کچھ عرصے کے لئے گھسیٹ رہے ہیں گویا کہ یعنی زندگی کے بارڈر پر گھسیٹ رہے ہیں عملاً وہ دوسری طرف جا چکا یا لڑھکنے والا ہے اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی تقدیر جب تک آخری صورت میں ظاہر نہ ہو جائے ڈاکٹروں کی تقدیر کا کوئی اعتبار نہیں ہوا کرتا۔