خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 144 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 144

خطبات طاہر جلدے 144 خطبه جمعه ۴ ۱ مارچ ۱۹۸۸ء میں رخصت ہوتے وقت اپنے خطاب میں کیا۔ کہتے ہیں: ہم میں سے اگر کوئی فوت ہو جائے تو آپ لوگ یہ سمجھیں کہ دنیا کا کوئی دور دراز حصہ ہے جہاں تھوڑی سے زمین احمدیت کی ملکیت ہے یعنی وہ حصہ جس پر ہماری قبر مشتمل ہے ۔ احمدی نوجوانوں کا فرض ہے کہ اس تک پہنچے اور اس مقصد کو پورا کریں جس کی خاطر اس زمین پر ہم نے قبروں کی شکل میں قبضہ کیا ہوگا۔ پس ہماری قبروں کی طرف سے یہ مطالبہ ہوگا کہ اپنے بچوں کو ایسے رنگ میں ٹریننگ دیں کہ جس مقصد کے لئے ہماری جانیں فدا ہوئیں اسے وہ پورا کرتے رہیں ۔“ یہ ب جو ان کی خواہش تھی یہ اس طرح پوری ہوئی کہ جب ان کا وصال ہوا تو حضرت مصلح موعو رض نے اجازت دی کہ ان کی تدفین وہیں سیرالیون میں کی جائے اور بو (Bo) کے مقام پر یہ عظیم الشان مجاہد احمد یت دفن ہے۔ میں جب وہاں گیا ہوں تو میری شدید خواہش تھی کہ وہاں جا کے دعا کروں لیکن وہاں کی جماعت نے ایک مصلحت کی خاطر اس قبر کو لوگوں سے آج کل چھپایا ہوا ہے کیونکہ وہ ملک جہاں کسی زمانے میں ان کو ذلیل و رسوا کرنے کی کوشش کی جاتی تھی منہ پتھپڑ مارے جاتے تھے گھسیٹا جاتا تھا ہر قسم کی گندی گالیاں دی جاتی تھیں اس ملک میں وہ تو نہیں ہیں لیکن ان کی قبر کی اتنی عزت پیدا ہو چکی ہے کہ علاقے سے دور دور سے لوگ اس قبر سے منتیں مانگنے کے لئے پہنچتے تھے اور شرک شروع ہو گیا تھا اس لئے جماعت نے اس موحد کی قبر کو شرک کا مرکز تو نہیں بننے دینا تھا۔ چنانچہ انہوں نے عمداً اس قبر کو لوگوں کی پہنچ سے الگ کر دیا ہے اور یہی خیال ان کے دل میں آیا کہ اگر میں وہاں چلا گیا تو ہو سکتا ہے لوگوں کا پھر یہ سلسلہ شروع ہو جائے اور لوگ سمجھ نہیں سکیں گے کہ میں کیا کرنے گیا ہوں میں قبر سے مانگنے نہیں گیا قبر والے کے لئے مانگنے گیا ہوں ۔ بہر حال جو بھی تھا یہ مجھے افسوس تو ہے خدا پھر توفیق دے گا تو جاؤں گا لیکن ان کا ذکر میں پھر بعد میں کرتا ہوں ایک اور مبلغ بہت عظیم الشان خدمت کرنے والے فدائی مبلغین میں سے مولوی الحاج نذیر احمد صاحب مبشر تھے جواب بھی زندہ ہیں اللہ کے فضل سے۔ پھر مولانا محمد صدیق صاحب