خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 144
خطبات طاہر جلدے 144 میں رخصت ہوتے وقت اپنے خطاب میں کیا۔کہتے ہیں: خطبه جمعه ۴ / مارچ ۱۹۸۸ء ہم میں سے اگر کوئی فوت ہو جائے تو آپ لوگ یہ سمجھیں کہ دنیا کا کوئی دور دراز حصہ ہے جہاں تھوڑی سے زمین احمدیت کی ملکیت ہے یعنی وہ حصہ جس پر ہماری قبر مشتمل ہے۔احمدی نوجوانوں کا فرض ہے کہ اس تک پہنچے اور اس مقصد کو پورا کریں جس کی خاطر اس زمین پر ہم نے قبروں کی شکل میں قبضہ کیا ہو گا۔پس ہماری قبروں کی طرف سے یہ مطالبہ ہو گا کہ اپنے بچوں کو ایسے رنگ میں ٹریننگ دیں کہ جس مقصد کے لئے ہماری جانیں فدا ہوئیں اسے وہ پورا کرتے رہیں۔“ یہ جو ان کی خواہش تھی یہ اس طرح پوری ہوئی کہ جب ان کا وصال ہوا تو حضرت مصلح موعودؓ نے اجازت دی کہ ان کی تدفین وہیں سیرالیون میں کی جائے اور بو(Bo) کے مقام پر یہ عظیم الشان مجاہد احمدیت دفن ہے۔میں جب وہاں گیا ہوں تو میری شدید خواہش تھی کہ وہاں جا کے دعا کروں لیکن وہاں کی جماعت نے ایک مصلحت کی خاطر اس قبر کو لوگوں سے آج کل چھپایا ہوا ہے کیونکہ وہ ملک جہاں کسی زمانے میں ان کو ذلیل ورسوا کرنے کی کوشش کی جاتی تھی منہ پر تھپڑ مارے جاتے تھے گھسیٹا جاتا تھا ہر قسم کی گندی گالیاں دی جاتی تھیں اس ملک میں وہ تو نہیں ہیں لیکن ان کی قبر کی اتنی عزت پیدا ہو چکی ہے کہ علاقے سے دور دور سے لوگ اس قبر سے منتیں مانگنے کے لئے پہنچتے تھے اور شرک شروع ہو گیا تھا اس لئے جماعت نے اس موحد کی قبر کو شرک کا مرکز تو نہیں بننے دینا تھا۔چنانچہ انہوں نے عمداً اس قبر کولوگوں کی پہنچ سے الگ کر دیا ہے اور یہی خیال ان کے دل میں آیا کہ اگر میں وہاں چلا گیا تو ہوسکتا ہے لوگوں کا پھر یہ سلسلہ شروع ہو جائے اور لوگ سمجھ نہیں سکیں گے کہ میں کیا کرنے گیا ہوں میں قبر سے مانگنے نہیں گیا قبر والے کے لئے مانگنے گیا ہوں۔بہر حال جو بھی تھا یہ مجھے افسوس تو ہے خدا پھر تو فیق دے گا تو جاؤں گا لیکن ان کا ذکر میں پھر بعد میں کرتا ہوں ایک اور مبلغ بہت عظیم الشان خدمت کرنے والے فدائی مبلغین میں سے مولوی الحاج نذیر احمد صاحب مبشر تھے جو اب بھی زندہ ہیں اللہ کے فضل سے۔پھر مولا نا محمد صدیق صاحب