خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 138 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 138

خطبات طاہر جلدے 138 خطبه جمعه ۴ / مارچ ۱۹۸۸ء کے ذریعے احمدی ہو چکے تھے۔ان کا نام امام موسیٰ کا ہا تھا اور انہوں نے ہی قادیان سے خط وکتابت کے ذریعے احمدیت قبول کی۔خط و کتابت تو ۱۹۱۵ء میں کی تھی لیکن ۱۹۱۶ء میں احمدیت کو قبول کیا۔احمدیت بھی قبول کی اور پھر درخواست بھی دی کہ افریقہ میں مبلغ بھیجا جائے۔مولا نائیر صاحب کو میں نے اپنے پچپن میں دیکھا ہوا ہے بڑے قریب سے اور آپ میں سے بہت سے ایسے ہوں گے یا دنیا میں ایسے ہزار ہا سے بھی زیادہ ، چالیس پچاس ہزار شاید ابھی تک زندہ ہوں اس نسل کے لوگ جنہوں نے قادیان میں ان بزرگوں کو دیکھا ہے اور حضرت نیر صاحب کی شخصیت بڑی دلچسپ تھی اور بہت ہی غیر معمولی اثر ڈالنے والی شخصیت تھی۔ویسے تو صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہر ایک ہی ستاروں کی طرح روشن تھا اور خاص رنگ رکھتا تھا اپنے لیکن بعض میں بعض انفرادی باتیں خصوصیت کے ساتھ پائی جاتی تھیں جو ایک امتیازی نشان بن جایا کرتی تھیں۔آپ کی شکل و صورت آپ کا حلیہ اس فرضی بزرگ سے قریب تر تھا جسے ہم خواجہ خضر کہتے ہیں۔عوام الناس میں سبز پوش ایک بزرگ جس کی لمبی ریش اور عصا ہاتھ میں پکڑے ہوئے ایک بزرگ کا تصور پایا جاتا ہے جس کو خواجہ خضر کہتے ہیں اور قرآن کریم میں حضرت موسی کے جس ساتھی کا ذکر ہے وہ سمجھتے ہیں وہی خواجہ خضر تھے۔تو ان کا جو تصور ہے وہ کم و بیش اسی قسم کا ذہن میں میں نے جو معلوم کیا ہے پایا جاتا تھا اور حضرت نیر صاحب اس تصور کی ایک زندہ تصویر تھے اور پھر ان کی یاد میں یہ بات تازہ ہو جاتی ہے کہ آپ غالباً جماعت میں پہلے تھے یا ابتدائی لوگوں میں سے تھے جنہوں نے سلائیڈز دکھا کر بہت تبلیغ کی اور نئی نسلوں کی تربیت کی۔چنانچہ سلائیڈز کے لحاظ سے بچوں کا ان سے بہت زیادہ تعارف ہوا۔قادیان میں جہاں بھی حضرت نیر صاحب سلائیڈز کی مجلس لگایا کرتے تھے اس زمانے میں تو وہ آجکل کی جو ایڈوانس مووی پکچرز ہیں اس کا پتا ہی نہیں لوگوں کو کتنا مزہ آتا ہو گا لیکن ان سلائیڈ ز کا قادیان کے بچوں کو اتنا مزہ آتا تھا کہ میرا خیال ہے کہ آجکل لوگوں کو دوسری پکچرز کا اتنا آہی نہیں سکتا۔ہمہ تن ہم اس میں منہمک ہو جایا کرتے تھے اور حیرت سے دیکھا کرتے تھے یہ کتنا عظیم الشان کام ہے جو ہو رہا ہے۔نیر صاحب ہر سلائیڈ کے بعد کہتے تھے Next اور یہ جو Next کا محاورہ ہے یہ ہمیں بہت ہی لطف دیتا تھا بچے خوب ہنسا کرتے تھے کیونکہ اس زمانے میں Next عام طور پر لفظ اردو میں نہیں استعمال کیا جاتا تھا مگر یہ چونکہ زیادہ دیر انگریزی بولنے والے علاقوں میں تبلیغ