خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 136
خطبات طاہر جلدے 136 خطبه جمعه ۴ / مارچ ۱۹۸۸ء حالات سے گزر رہا تھا مرکز میں بنا ہوا تھا اور اُن کے جذبات ، ان کی محبت ، ان کے اخلاص کے اظہار سے جوار تکاز ہوتا تھا میرے دل کے اوپر اُس سے کیا کیفیت ہوگی۔یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے خاص حوصلہ نہ ہوتو انسان اس کو برداشت ہی نہیں کر سکتا۔لیکن اگر وہ میرے دل میں ہی رہتے اور وہیں مجتمع ہوتے تو پھر میری جان کو خطرہ تھا۔اگر ان قوتوں کو آگے بڑھایا دیا جائے اور اُن کے ساتھ سفر اختیار شروع کر دیا جائے تو پھر کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔چنانچہ میرا تجربہ مسلسل یہی رہا کہ جب بھی یہ لوگ اپنی محبت اور عشق کا اظہار کرتے تھے اور پھر اظہار کا طریق بھی یہ کہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے نعرے۔نعرہ ہائے تکبیر اور اس قدر خوبصورت آوازوں میں پورے کے پورے ہزار ہا لوگ بیک وقت ہم آہنگ ہو کر جو درود پڑھتے تھے اُس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ کتنا غیر معمولی ارتعاش طبیعت میں پیدا ہو جاتا ہو گا لیکن اُس کے ساتھ اُس کا علاج یہ تھا جو طبعی تھا خدا کی طرف سے تھا کہ میں اپنے آپ کو ان باتوں کا مرکز سمجھتا ہی نہیں تھا۔میرا ذہن اُسی وقت ماضی کی یادوں میں منتقل ہو جایا کرتا تھا۔ان سب کے تحائف میں اپنے پاس امانت سمجھتا تھا۔ان کی محبتوں کو لے کر میں ایک روحانی سفر اختیار کرتا تھا اور ماضی میں اُن بزرگوں کی یادوں تک پہنچتا تھا جنہوں نے نا قابل بیان اور عظیم الشان قربانیاں دیں۔بعض دفعہ میں اُن یادوں سے مغلوب ہو کر روتا تھا لیکن دنیا سمجھ نہیں سکتی تھی کہ کیا ہورہا ہے میرے ساتھ اور کن کیفیات سے میں گزر رہا ہوں۔آپ کو میں اُن کیفیات سے گزارنا چاہتا ہوں۔اس لیے میں یہ ذکر چھیڑ رہا ہوں۔آپ کو میں اُن یادوں کی طرف منتقل کرنا چاہتا ہوں کیونکہ اُس کے بغیر آپ میں دوبارہ قربانیوں کے عزم پیدا نہیں ہوں گے۔آپ کو وہ قوت نہیں ملے گی جو قوت درکار ہے اس وقت دوبارہ افریقہ کی خدمت کے لیے۔چنانچہ میرا ذہن اُن لوگوں کی طرف منتقل ہوتا رہا مجھے مختلف ملکوں میں مختلف لوگ یاد آئے ، کوئی سرسری طور پر کچھ زیادہ گہرے طور پر۔بعض ایسے جہاں جا کر نگاہیں رک جاتی ، ٹک جاتی رہیں اور کچھ دیر گو یا یادوں میں اُن کی معیت میں وقت گزارنے کی توفیق ملی۔بعضوں کی پرانے مسکن دیکھے ، وہ پرانے گھر ، دیکھے وہ راستے دیکھے جہاں سے وہ گزرا کرتے تھے۔وہ ابتدائی سکول دیکھے جو انہوں نے تعمیر کئے تھے۔کئی دور کے مختلف لوگ ہیں اُن میں سے جو تازہ دور میں سے بعض مثالیں ہیں۔مولوی نور محمد نسیم سیفی ہیں، صوفی محمد اسحق صاحب ،ابراہیم خلیل صاحب، بشارت احمد بشیر