خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 133
خطبات طاہر جلدے 133 خطبه جمعه ۴/ مارچ ۱۹۸۸ء رفتہ ان لوگوں نے اُن ملکوں کو چھوڑ کر دوسرے ملکوں کا رخ اختیار کیا۔جس طرح فصلی پرندے خوراک کے ساتھ ساتھ پھرتے ہیں۔جب ایک جگہ خوراک ختم ہو جائے تو پھر وہ وہاں تو نہیں بیٹھے رہتے۔آزاد ہیں خدا تعالیٰ نے جہاں اُن کا رزق رکھا ہے وہاں چلے جاتے ہیں اور اُن پر کوئی شکوہ نہیں اسی طرح ان پر بھی کوئی شکوہ نہیں۔لیکن وہ واقفین زندگی جنہوں نے اپنی زندگیاں دین کی خاطر پیش کی ہوئی تھیں وہ وہیں بیٹھے رہ گئے۔جو چیز نفع بخش ہے اُس کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ (الرعد: ۱۸) وہ زمیں میں ٹھہری رہتی ہے۔وہ اپنے فائدے کی خاطر نہیں بدلتی وہ دوسروں کے فائدے کی خاطر پہنچی ہوتی ہے۔اس آیت میں بڑے عظیم الشان مضامین ہیں۔اُن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگ جو دوسروں کو نفع پہنچانے کی خاطر جایا کرتے ہیں۔وہ اُن کے حالات بدلنے سے وہاں سے بھاگ تو نہیں جایا کرتے ، پیچھے تو نہیں ہٹ جایا کرتے۔جو اپنا فائدہ لینے کے لیے جاتے ہیں اُن کے حالات بدلتے رہتے ہیں۔اُن کے سفر بھی اُسی نسبت سے ہوتے رہتے ہیں۔جہاں تک کسی قوم سے فائدہ میسر آیا وہاں تک ان سے وفا کی۔جب فائدہ ختم ہو گیا تو انہوں نے آگے سفر کر لینا ہے جہاں بھی اُن کو موقع ملے گا وہاں چلے جائیں گے۔تو ایسے لوگ باقی رہ گئے جو فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ کے مصداق تھے۔بعض معلمین ، بعض واقفین زندگی ڈاکٹر بھی ، دوسرے بھی ، اساتذہ بھی وہ اب تک وہیں بیٹھے ہوئے ہیں اور انہوں نے کوئی شکوے نہیں کیے۔شدید تکلیف میں وقت گزارا بلکہ بعض جگہ مجھے اس کی وجہ سے مبلغ انچارج سے شدید ناراضگی کا بھی اظہار کرنا پڑا کہ تمہیں کیا حق تھا کہ ان کی مصیبت اور میرے درمیان پردہ بن کے بیٹھے رہو۔خدا تعالیٰ کے سامنے میں جوابدہ ہوں اتنی تکلیف میں یہ لوگ گزار رہے ہیں وقت اور تمہیں کوئی جس نہیں ہوتی تم اپنی طرف سے اس کو اخلاص سمجھ رہے ہو، تقومی سمجھ رہے ہو کہ مرکز سے مطالبہ نہیں کرنا لیکن بحیثیت امیر تمہارا فرض تھا کہ ان کی مشکلات ان کی مصیبتوں سے مجھے مطلع کرو تا کہ وقت کے اوپر میں خدا کے حضور اپنی ذمہ داری ادا کروں کیونکہ آخری جوابدہی مجھے کرنی ہوگی۔تو ایسے بھی تھے جنہوں نے تقویٰ کے ساتھ زبانوں پر مہریں لگائیں، ایسے بھی تھے جنہوں نے تقویٰ کا مفہوم غلط سمجھ کر زبانوں پر مہریں لگائیں اور بڑی تکلیف میں وہاں وقت گزارے اور ابھی بھی وہ خدمت کے میدانوں سے جی نہیں کترار ہے۔