خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 132
خطبات طاہر جلدے 132 خطبه جمعه ۴ / مارچ ۱۹۸۸ء ہم وہاں جا کر پریکٹس کریں تو ہماری آمدن اپنے ملک کی نسبت بہت زیادہ ہوسکتی ہے۔پھر آگے ایسے رستے نکل سکتے ہیں کہ ہم آئندہ اعلیٰ تعلیم کے لیے پھر انگلستان چلے جائیں یا کسی اور ملک چلے جائیں۔اُس کے لیے ایک قسم کا پلیٹ فارم میسر آجائے گا جس سے چھلانگ لگا کر اگلا قدم اٹھایا جا سکتا ہے یعنی اگلی منزل تک پہنچا جا سکتا ہے۔یہ اُن کے سامنے پیش نظر بات تھی اس میں کوئی گناہ نہیں ہے ایک انسان کو اگر فائدہ نظر آتا ہے اور کوئی کسی کا نقصان اس میں نہیں ہے تو کوئی حرج نہیں۔اس سے فائدہ اُٹھانا چاہئے۔پھر اساتذہ نے سنا کہ وہاں تو حکومت نے قومیا لئے ہیں سکول اور بڑی بڑی تنخواہیں مل رہی ہیں اور آنے جانے کے فرسٹ کلاس کے کرائے بھی ملیں گے دو دو تین تین سال کے بعد پورے خاندان سمیت تو پاکستان میں اساتذہ کو کون پوچھتا ہے۔کیوں نہ وہاں جا کے قسمت آزمائی کی جائے تو یہ لوگ بھی وہاں پہنچے بڑی کثرت کے ساتھ اور ان کے متعلق یہ کہنا چاہئے کہ چونکہ احمدی تھے مخلص احمدی تھے۔نیتیں خواہ کچھ بھی تھیں وہاں پہنچ کر انہوں نے اچھے تعلقات قائم کئے ، اچھے اثرات قائم کئے اور خدا کے فضل سے نیک نمونے دکھائے الا ماشاء اللہ اور ان کا بھی نیک اثر پڑا۔لیکن بدقسمتی سے اُن ملکوں کے حالات پھر بدلنا شروع ہوئے اس قدر مظلوم تو میں ہیں کہ آپ تصور بھی نہیں کر سکتے کہ کس طرح دنیا نے اُن کے ساتھ دھو کے کیسے ہیں ، اُن کو لوٹا ہے ، جب امارت آئی خدا کی طرف سے تو اُس وقت بھی اُن کو لوٹا گیا۔اب غربت میں بھی اُن کا پیچھا نہیں چھوڑ رہے۔یہ یوں لگتا ہے جس طرح جو نکمیں چھٹی ہوئی ہیں کسی جسم کے چاروں طرف سے۔ہر طرف سے خون چوسا جا رہا ہے اور نام یہ ہے کہ ہم خدمت کر رہے ہیں۔ہم تمہیں ایڈ دے رہے ہیں۔ہم تمہارے لیے کاریں بنا بنا کے بھیج رہے ہیں یا فلاں قسم کی مصنوعات تمہیں مہیا کر رہیں ہیں یہ ہمارا تم پر احسان ہے اور اس احسان کے پردے میں کثرت کے ساتھ اُن کے اقتصادی حالات دن بدن تباہ ہوتے چلے جا رہے ہیں۔یہ مضمون تو بہت وسیع ہے لیکن اس کے متعلق جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے جو کارروائیاں ہیں وہ انشاء اللہ کی جائیں گی۔کہنے کا مقصد اس وقت یہ ہے کہ جب یہ حالات بدلنے شروع ہوئے تو وہ اساتذہ بھی ملک چھوڑنے لگ گئے جو خدمت کی نیت سے گئے ہی نہیں تھے ، گئے اس لیے تھے کہ اُن کے حالات کا تقاضا یہ تھا کہ وہاں اُن کے فوائد ہیں ان فوائد سے متمتع ہونے کی خاطر وہ گئے تھے۔وہ ڈاکٹر ز بھی جو اس نیت سے گئے تھے۔اُن کا دل بھی اُچاٹ ہونے لگا اور رفتہ