خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 129
خطبات طاہر جلدے 129 خطبه جمعه ۴ / مارچ ۱۹۸۸ء کیا۔دعا عمل کے بعد شروع ہوتی ہے عمل سے پہلے بھی شروع ہوتی ہے۔لیکن عمل کے بغیر نہیں ہے۔چنانچہ آنحضرت ﷺ نے جب تو کل کا مضمون بیان فرمایا تو فرمایا تو کل یہ نہیں ہے کہ اونٹ کو کھلا چھوڑ دو جنگل میں اور سمجھو کہ خدا تعالیٰ اُس کی حفاظت فرمائے گا۔تو کل یہ ہے کہ اُس کا گھٹنا ضرور باندھو اور پھر وہم میں مبتلا نہ ہو پھر اللہ تعالیٰ پر توکل کرو خدا تعالیٰ حفاظت فرمائے گا۔( ترندی کتاب صفۃ القیامه حدیث نمبر: ۲۴۴۱) تو دعا کے مضمون میں عمل داخل ہے یہ بات میں خوب اچھی طرح کھولنا چاہتا ہوں۔عمل سے پہلے بھی دعا ہے۔دعا کے نتیجے میں عمل کی توفیق ملتی ہے۔عمل کے بعد بھی دعا ہے۔لیکن عمل کو نکال دیں بالکل عمد اترک کر دیں تو دعا کوئی چیز نہیں ہے۔وہ ایک قسم کی انانیت ہے۔وہ ایک قسم کا خدائی کا دعویٰ ہے اور اپنا تکبر ہے کہ گویا ہم خدا کے قانون قدرت سے بالا ہیں۔ہماری خاطر خدا اپنے قانون کو نظر انداز کر دے گا۔ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھ کے بیٹھے رہیں تب بھی خدا ہمارے لئے پورا کرے گا۔یہ مضمون شرک بھی ہے، گستاخی بھی ہے، تکبر بھی ہے۔اسی لیے انبیاء عمل سے ایک لمحہ بھی غافل نہیں رہتے تھے۔سب کچھ علم ہوتا ہے کہ خدا نے کرنا ہے۔بعض باتیں نا ممکن دکھائی دے رہی ہوتی ہیں۔ہو ہی نہیں سکتیں۔لیکن اُس کے باوجود وہ کرتے رہتے ہیں اور دعا کرتے رہتے ہیں۔تو اس لیے جب یہ کہا جائے کہ حسد سے بچنے کے لیے دعا کرو تو یہ مضمون اس میں داخل ہے کہ مقدور بھر کوشش ضرور کرو۔یہ نہ خیال کرنا کہ لوگ شرارت نہیں کریں گے۔لوگ تمہارے منصوبوں میں دخل اندازی کی کوشش نہیں کریں گے۔ایسے فتنے نہیں پیدا کریں گے جس سے تمہارے عظیم الشان منصوبے ناکام بنائے جائیں۔وہ ضرور کریں گے لیکن اگر دعا کرتے رہو گے ساتھ یعنی اپنی پوری کوششوں کے بعد دعا سے بھی کام لو گے تو پھر دشمن لازماً نا کام ہوگا یہ خوشخبری ہے اس مضمون میں جو قرآن کریم کی آخری سے پہلی سورۃ میں بیان فرمایا گیا ہے۔اس لیے میں اس بات سے باخبر ہوں اور منصوبوں کے سارے حصے جماعت کے سامنے نہیں کھول سکتا لیکن جماعت سے کام بہر حال لینا ہے اور جس کے ساتھ جس مضمون کا تعلق ہوگا اُس سے رابطہ کیا جائے گا۔اگر وہ جماعتی طور پر ہو گا تو بعض جماعتوں سے رابطہ کیا جائے گا۔اگر انفرادی طور پر ہوگا تو انفرادی طور پر اُن سے رابطہ کیا جائے گا۔یہ تو نہیں ہوسکتا کہ خلیفہ اکیلا کام کرے بلکہ ساری جماعت کا نام ہی خلافت ہے اصل میں۔خلافت ایک فرد کے ذریعے ظاہر ہو رہی ہے مگر امر