خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 128 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 128

خطبات طاہر جلدے 128 خطبه جمعه ۴ / مارچ ۱۹۸۸ء کا۔اُن کی فہرستیں بن جاتی ہیں اور ساتھ خطوط بھی مہیا ہوتے ہیں تا کہ اگر کوئی بات دیکھنی ہو تو خود دیکھ سکوں۔تو اُن کے سوا جتنے بھی ایسے خطوط ہیں جن کا کسی نہ کسی انفرادی نوعیت کے معاملے سے تعلق ہے۔وہ سارے اگر میں خود پڑھتا ہوں۔اس لیے یہ وہم نہ کریں کہ میں خط بھی نہیں پڑھ رہا اور گویا کہ اندھیرے میں چلا گیا ہوں۔ہرگز ایسی کوئی بات نہیں ہے نہ ہو سکتی ہے۔یہ بھی بالعموم ایک ایسی جماعتی ضرورت ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔یہ انفرادی ضرورت نہیں ہے مجھے بھی ضرورت ہے اس کی کہ ساری دنیا کی جماعتوں کے حالات سے باخبر رہوں اور نظر رکھوں کہ کیا ہو رہا ہے۔کس قسم کے جذبات کیفیات میں سے مختلف دنیا کی جماعتیں گزر رہی ہیں ، کونسے مسائل کا اُن کو سامنا ہے۔تو وہ محض خلاصوں سے تو نہیں پتا چل سکتا۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے بعض ایسی نوعیت کے خطوط ہیں جن کے خلاصے تیار ہو سکتے ہیں مثلاً طلبہ کی دعا کا مضمون ہے۔بعض اور قسم کے مضامین ہیں جن میں خلاصے تیار ہو سکتے ہیں۔اُن میں دفتر میری مدد کرتا ہے۔یہاں کی خواتین انگلستان کی مدد کرتی ہیں اور کئی ایسے خدا تعالیٰ کے فضل سے ایسے خدمت کرنے والے یعنی Honorary رضا کارانہ خدمت کرنے والے ریٹائر ڈ احمدی ہیں جو بڑی محنت سے یہ کام کر رہے ہیں۔تو وہ میرا وقت بچاتے ہیں اس لیے مجھے تو فیق مل رہی ہے کہ میں اس سارے کام کو سمیٹ سکوں۔لیکن جواب کے وقت ضرور کمزوری واقع ہوگی اور اُس میں میں اُمید رکھتا ہوں کہ دوست اس کو نظر انداز فرمائیں گے۔افریقہ کے متعلق بہت سی ایسی باتیں ہیں جو مجالس میں یا عام جلسوں میں بیان ہو نہیں سکتیں۔اُس کی وجہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے کچھ ایسے منصوبوں پر آگاہی فرمائی ہے، ایسے منصوبے روشن فرمائے ہیں۔جن کے متعلق اُن کو عملدرآمد سے پہلے کھول کر دنیا کے سامنے لانا حکمت عملی کے خلاف ہوگا۔قرآن کریم ہمیں تاکید فرماتا ہے کہ تم خدا تعالیٰ کے فضلوں اور نظروں کے سامنے جب بڑھو گے۔تو اُس وقت حاسد کے حسد سے بچنے کی دعا بھی کرنا وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ (الفلق : 4 ) میں یہی مضمون بیان ہوا ہے۔چنانچہ اُس کا صرف یہ مطلب نہیں ہے کہ جب حسد شروع ہو جائے تو دعا کرنا۔مراد یہ ہے کہ حسد ہو گا ہم تمہیں متنبہ کرتے ہیں اور اُس حسد کے مقابلے کی تمہیں براہ راست خود طاقت نہیں ہو گی۔یہ مطلب نہیں ہے کہ تم نے کوشش نہیں کرنی۔جو لوگ یہ مضمون سمجھتے ہیں اُن کو اس آیت کا بلکہ قرآن کریم میں دعا کے مضمون کا کچھ بھی علم نہیں کہ وہ ہے