خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 127
خطبات طاہر جلدے 127 خطبه جمعه ۴ / مارچ ۱۹۸۸ء ہوں تو ایک سال بھی نہیں بلکہ آئندہ دسیوں بیسوں سال کے کام کے لیے خدا تعالیٰ نے رستے کھولے ہیں اور اس پہلو سے میں سمجھتا ہوں یہ اللہ تعالیٰ کی خاص تقدیر تھی کہ اگلی صدی میں داخل ہونے سے پہلے کا آخری سال جو ہے اس میں خدا تعالیٰ نے اس دورے کی توفیق بخشی اور یہ واقعہ ہے کہ افریقہ کو اس دورے کی شدید ضرورت تھی اور آئندہ صدی کے لیے ہمیں بہت سے عظیم الشان منصوبے بنانے تھے جن کی طرف نگاہ جاہی نہیں سکتی تھی یہاں بیٹھے ہوئے۔رپورٹوں کے ذریعے ایک ملک کے حالات کا جائزہ لینا یا کتابوں کے ذریعے ایک ملک کے حالات کا تصور باندھنا یہ بالکل اور بات ہے۔اپنی آنکھوں سے دیکھنا، اپنے کانوں سے اُن لوگوں کو سننا اُس کے نتیجے میں بالکل ایک نیا ملک سامنے اُبھرتا ہے۔نئے مسائل سامنے آتے ہیں، نئی ترقی کی راہیں کھلتی ہیں۔تو اس پہلو سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ دورہ اتنا مصروف بھی تھا اور اتنا آئندہ مصروف رکھنے والا دورہ ہے کہ آئندہ کئی مہینے مسلسل ان کاموں کو سمیٹنے پر لگیں گے۔اس لیے پہلی بات تو یہ میں جماعت کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں کہ اگر خط و کتابت میں کچھ دیر ہو جائے بلکہ بعض صورتوں میں ہو سکتا ہے مجھے دستخطوں کا بھی موقع نہ ملے اور مجھے پرائیویٹ سیکرٹری سے کہنا پڑے کہ کچھ عرصے کے لیے تم میری طرف سے دستخط کر کے ڈاک بھیجا کرو تو اُس پر وہ بدظنی نہ کریں۔اس دورے کے معابعد جو مجھے خط ملے ہیں اُس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بعض لوگ بے چین ہو گئے ہیں۔بعض لوگوں نے شکوے شروع کر دیئے ہیں کہ ڈیڑھ مہینہ ہو گیا ہے آپ کے دستخطوں کا کوئی خط نہیں آیا۔کیا بات ہے ناراض ہیں کیا ہو گیا ہے۔تو میں بتانا چاہتا ہوں کہ ہرگز ناراضگی کا کوئی سوال نہیں ہے۔کسی قسم کی بے اعتنائی کا کوئی سوال نہیں بلکہ کام اس نوعیت کے ہیں کہ اُن کو بہر حال فضیلت دینی ہوگی ذاتی جذبات کے مقابل پر۔انفرادی تعلق اپنی جگہ ہیں ساری جماعت سے فرداً فردا ایک تعلق ہے لیکن اس تعلق کے مجموعے کا نام جماعتی تعلق ہے۔اس مجموعے پر افراد کو فضیلت نہیں دی جاسکتی۔اس لیے جو جماعتی کام ہیں انہیں بہر حال پہلے رکھنا ہوگا اور اس دوران جس حد تک بھی انفرادی طور پر ذمہ داریاں ادا کرنے کی توفیق ملتی ہے وہ کی جائیں گی انشاء اللہ۔لیکن اس بارے میں ہر گز بدظنی سے کام نہ لیں۔دوسرا یہ بھی میں مطمئن کروانا چاہتا ہوں کہ خطوط سارے پڑھتا میں ہوں اور جو بعض ہیں طلبہ کے خطوط اس قسم کے جن میں سب میں مشترک مضمون ہوتا ہے دعا