خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 126 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 126

خطبات طاہر جلدے 126 خطبه جمعه ۴ / مارچ ۱۹۸۸ء کر تیزی سے نکل گیا ہے اور دنوں کا پتا ہی نہیں چلتا تھا کہ کس وقت آئے اور کس وقت نکل گئے۔اس کے باوجود ایک عجیب متضاد کیفیت یہ بھی تھی کہ ایک طرف وقت کی تیزی کا احساس ایک طرف تھوڑے وقت میں اتنا زیادہ خدا تعالیٰ نے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائی کہ یوں محسوس ہوتا تھا کہ چند دنوں میں مہینوں وہاں ٹھہرے ہیں یعنی وہاں ہم مہینوں ٹھہرے ہیں صرف چند دن نہیں۔تو بیک وقت یہ متضاد کیفیات تھیں اور سفر کے بعد بھی یہ احساس ہوا گویا کہ چھ مہینے سال باہر گزار کے واپس آرہا ہوں اور دوسری طرف دوروں کے وقت کے گزرنے کا احساس ہی نہیں تھا اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ ایک طرف سے دن داخل ہوئے اور دوسری طرف سے نکل بھی گئے۔جلسہ سالانہ کی کیفیات یاد آتی تھیں۔جلسہ سالانہ میں بھی یہی ہوا کرتا تھا۔مدتوں مہینوں انتظار رہتا تھا، انتظامات ہوا کرتے تھے اور جب پہلا دن جلسہ کا پروگرام کا شروع ہوتا تھا تو آخری دن تک پہنچنے میں وقت ہی کوئی نہیں لگتا تھا۔ادھر سے داخل ہوئے گویا وہاں رفتار تیز ہو گئی اچانک اور گھومتے ہوئے پلیٹ فارم پر کوئی ایک آدمی چڑھ گیا اور اچانک پرلی طرف سے سر باہر نکالنے کا موقع ملتا ہے۔ایسی کیفیت افریقہ کے دورے میں بھی تجربے میں آئی اور اب جب میں نے کل مبارک احمد ساقی صاحب کے ساتھ بیٹھ کر جو سفر کے وقت میرے ساتھ ایڈیشنل وکیل التبشیر کے طور پر تھے۔ایک ایک ملک کے متعلق مختصر نوٹس لکھوانے شروع کیے جو کام ہم نے کرنے ہیں تو پتا چلا کہ اس کے لیے بھی کئی گھنٹے کی مجلسیں اُن کے ساتھ درکار ہونگی۔محض اشارہ نوٹس لکھوانا کہ یہ یہ کام ہم وہاں وعدے کر کے آئے ہیں یا یہ منصوبے ذہن میں ابھرے ہیں۔اُن کا Follow up کرنا ہے، کس طرح کرنا ہے۔اُس کے لیے بھی کئی گھنٹے درکار ہیں۔تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ دورہ ان معنوں میں تو بہر حال آپ جانتے ہی ہیں کامیاب رہا کہ خدا کے فضل سے ہر پہلو سے دوستوں نے بڑی محبت کا سلوک کیا اور بڑے پیار اور تعاون کا سلوک کیا۔احمدیوں نے پیار کا اور حکومتوں نے اور دیگر غیر احمدی عناصر نے تعاون کا اور بعض جگہ پیار کا بھی لیکن دورے کی کامیابی دراصل یہ نہیں ہے۔اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے جو کام ہیں وہ اصل کامیابی ہے۔اس کے نتیجے میں جونئی کھڑکیاں خدا تعالیٰ نے کام کی کھولی ہیں اصل کامیابی وہ ہے اور ان چند ہفتوں کے دورے کے نتیجے میں بہت سے مہینوں بلکہ شاید ایک سال کا بھی کہا جائے تو مبالغہ نہیں ہو گا کہ ایک سال کا کام ہمارے سامنے ابھر آیا ہے اور ایک سال میں سوچتا