خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 117 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 117

خطبات طاہر جلدے 117 خطبه جمعه ۲۶ فروری ۱۹۸۸ء دو اور روزمرہ کی جائز ضروریات سے محروم کر دو لیکن ہماری قوم میں یعنی ہماری قوم سے مراد ہے پاکستانیوں میں خصوصا اور ہندوستانیوں میں بھی کچھ نظر کی تنگی پائی جاتی ہے۔بعض لوگ بالکل آزاد ہو جاتے ہیں۔بعض بڑی دقیا نوسی رہتے ہیں اور دوسرے کی ایک ذراسی کمزوری کو بھی وہ برداشت نہیں کر سکتے اپنے اندر خواہ کتنی بھی کمزوریاں ہوں تو افریقہ کو ان کی تنقید سے بچانے کی خاطر میں یہ بات سمجھا رہا ہوں۔اس تنقید میں زبان جلدی نہ کھولیں اُن عورتوں کی بڑی عظیم الشان قربانیاں ہیں، حیرت انگیز پاکیزہ تبدیلیاں ہیں۔وہاں کے معاشرے میں جو جنسیات کا تصور ہے آپ لوگ یہاں سوچ بھی نہیں سکتے۔اُس کے باوجود ان احمدی خواتین نے جو پاک تبدیلیاں پیدا کیں ہیں وہ ان کے چہرے بشرے سے ظاہر ہے وہ نیک اور صاحب عصمت عورتیں ہیں۔اس لیے اُن کو باہر دیکھتے ہوئے یا کبھی وہ استقبال میں جوش میں آکر بالکل بے قابو ہو جاتی ہیں اور نعرہ ہائے تکبیر مردوں سے بھی زیادہ جوش میں بلند کرتی ہیں تو باہر سے بیٹھا کوئی مولوی کہے گا کہ لو جی یہ دیکھ لو یہ کیسا پردہ ہے اتنے زبردست نعرے لگا رہی ہیں۔نعرہ ہائے تکبیر میں تو کوئی نقصان نہیں ہے اگر ہمارے معاشرے میں یہ بات نہیں تھی تو اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ باہر اگر کوئی عورت نعرہ ہائے تکبیر بلند کرے یا دین کی محبت میں بے قابو ہو جائے تو اس کو آپ نعوذ باللہ بے حیا سمجھیں یا بے پردہ سمجھیں ہرگز ایسی بات نہیں ہے۔بہت اُن میں نیکی ہے، بہت خلوص ہے اور اس لحاظ سے میں سمجھتا ہوں کہ سلسلے کے گزشتہ مبلغین نے ۷۰ ۸۰ سال سے جو خدمت سر انجام دی ہے یہ سب سے بڑا اُن کا کارنامہ ہے کہ افریقہ کی عورت کی حالت بدلی ہے انہوں نے۔ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے اس میں شک نہیں لیکن جو کیا ہے وہ ہرگز نظر انداز کرنے کے لائق نہیں ہے۔بہت ہی عظیم الشان پاک تبدیلیاں پیدا ہوئی ہیں جبکہ عیسائیت نے تعداد جیتی ہے، نفوس حاصل کرنے کی کوشش کی ہے لیکن نفوس کو پاکیزہ بنانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔اتنا گند ہے عیسائی معاشرے میں وہاں تعجب ہے کہ عیسائیت اُس پر راضی کس طرح رہی۔اس قسم کے خوفناک جرائم ہیں ان کی سوسائٹیوں میں قدیم سے چلے آنے والے کہ کوئی مذہب بھی اگر وہ سچا ہو اور تقویٰ کے ساتھ خدا کے بندوں میں پاک تبدیلی پید کرنا چاہتا ہو اُن جرائم کو برداشت نہیں کر سکتا یا وہ اُن کو چھوڑنے پر مجبور کرے گا یا اُن کو کہے گا کہ تم ہمارے مذہب میں شامل نہیں ہو سکتے۔لیکن عیسائیت نے تعداد کی خاطر چونکہ وہ Colonization کے تابع پاکیزہ تبدیلی