خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 113 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 113

خطبات طاہر جلدے بات بیان کی ہے جیسا کے خود فرمایا 113 اس ڈھب سے کوئی سمجھے بس مدعا یہی ہے خطبه جمعه ۲۶ فروری ۱۹۸۸ء تو ڈھب خدا عطا کیا کرتا ہے وہ علم سے نہیں آیا کرتے۔ایک دفعہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے اپنے خلافت سے پہلے کے زمانے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور میرے طرز کلام میں فرق ہے۔میں عالم ہوں میں جانتا ہوں دینی علوم کو اور میں تو اسلام پر جو اعتراض کرتا ہے دو قدم نہیں چلنے دیتا اُس کا منہ بند کرتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام وہی بات اتنے طریقوں سے بیان کرتے ہیں کہ شاید اس رنگ میں وہ سمجھ جائے شاید اُس رنگ میں کوئی سمجھ جائے۔منہ بند کرنے کے لیے نہیں بلکہ عقلوں کو پوری طرح مغلوب کرنے کے لیے بات کرتے ہیں۔اس لئے آپ دیکھیں گے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کلام میں بعض دفعہ لمبے چکر ہوتے ہیں، لمبے رستے اختیار کیے جاتے ہیں بات سمجھانے کے لیے لیکن اُن لمبے رستوں کو اختیار کرنے کے بعد مخاطب پوری طرح گھیرے میں آجاتا ہے۔کوئی اُس کے پاس جواز نہیں رہتا پھر کہ دیانت پر قائم رہتے ہوئے اُس مضمون کو سمجھنے سے انکار کر دے۔یہ ایک طرز کلام ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا علم کلام چودہ سو سال میں قرآن کریم میں رسول اللہ کے زمانے کے بعد ایک انقلابی علم کلام ہے۔اُس کی کوئی مثال آپ کو پہلے علم کلام میں دکھائی نہیں دے گی۔تو اُسی طرح خدا تعالیٰ خلفاء کو بھی وقت کی ضرورتوں کے مطابق ایک علم کلام بخشا ہے۔چنانچہ اس نیت سے جو تجربہ میں نے دیکھا ہے بڑی بڑی مشکلوں میں متعصب لوگ بھی سامنے آئے۔جب پیار سے، محبت سے تفصیل سے بات سمجھا کر اُن کو بتائی گئی تو اُن کے چہرے بدل گئے بالکل۔اس افریقہ کے دورے میں بھی یہ ہوتا رہا ہے بلکہ بعض لوگوں نے تعجب کا اظہار کیا کہ اتنی جلدی ایسی تبدیلی پیدا ہوئی ہے کہ ہم بیان بھی نہیں کر سکتے تھے۔میں چاہتا تھا کہ اس طرز پر احمدی مبلغین کی تربیت ہو اور وہ سوال و جواب جو مختلف موضوعات سے تعلق رکھتے ہیں۔اُن کو باقاعدہ ایک گھنٹے کے طور پر پڑھائے جائیں۔لیکن بعض اساتذہ سمجھتے ہیں کہ اساتذہ کا تو حق ہے کہ وہ جس طرح سمجھیں خود علم دیں خلیفہ وقت کا حق نہیں ہے کہ وہ اپنی زبان میں طلباء کو پڑھا سکے۔گویا کہ یہ اُس کی انانیت ہے یا اُس کی نفس پرستی ہے نعوذ باللہ من ذالك ان لفظوں میں تو وہ نہیں کہتے لیکن جس رنگ میں