خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 112 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 112

خطبات طاہر جلدے 112 خطبه جمعه ۲۶ فروری ۱۹۸۸ء و جواب کی مجالس میں تیار کی گئی ہیں اور جس طرح میں چاہتا ہوں مسائل دنیا کے سامنے پیش کئے جائیں اسی طرح وہ ہمارے طلباء تیار ہوں اور وہی زبان سیکھیں ، وہی طرز اختیار کریں۔اُس میں بھی پوری توجہ نہیں دی گئی بلکہ مجھے ایک جامعہ کے پرنسپل صاحب کی طرف سے اطلاع ملی کہ خطبات تو طلباء سنتے ہی ہیں اب آپ کی ہدایت مل گئی ہے تو ہم کلاس میں سنوانا شروع کر دیں گے۔گویا بڑا احسان ہو گیا وہ سمجھتے ہیں کہ شاید مجھے شوق ہے کہ میرے خطبے پڑھے جائیں نعوذ بــا الـلـه مـن ذالک میرے تصور میں بھی ایسی کوئی بات نہیں۔مگر میں جانتا ہوں کہ خدا نے جماعت کی ذمہ داری مجھ پر ڈالی ہے۔اس لیے جو جس رنگ میں میں تربیت کرنا چاہتا ہوں اسی رنگ میں ہونی چاہئے۔جب خدا میرے بعد کسی اور کو خلیفہ بنائے گا تو پھر اُس کے اوپر ذمہ داری ہوگی لیکن علماء کا یہ کام نہیں ہے خواہ کتنے بڑے پروفیسر ہوں کہ وہ ساری ذمہ داری اپنے اوپر لے لیں۔جتنی ذمہ داری اُن پر ڈالی ہے وہ ادا کریں۔لیکن جب میں چاہتا ہوں کہ براہ راست جماعت کی تربیت کروں بیچ میں کوئی دوسرا نہ پڑے اور خدا تعالیٰ نے اس زمانے میں یہ انتظام مجھے فرما دیا ہے تو کسی کا کوئی حق نہیں کہ بیچ میں روک پڑے اور جہاں تک علمی درسوں کا تعلق ہے ایک ہی دلیل کو مختلف رنگ میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ایسے علماء میں جانتا ہوں جن کو بہت ٹھوس علم ہے، بڑے حوالے یاد ہیں لیکن وہ منہ تو بند کرا سکتے ہیں دل نہیں جیت سکتے۔اُن کی طرز میں خشکی ہے۔خالی علم تو کبھی دنیا میں انقلاب بر پا نہیں کیا کرتا۔کس رنگ میں بات کرنی ہے یہ بہت ہی اہم بات ہے۔دلیلیں ہرگز کافی نہیں ہیں دنیا میں انقلاب پیدا کرنے کے لیے۔دلیل کے ساتھ دل جیتنے کا انداز چاہئے ، ایسا انداز چاہئے کہ بات سمجھانے کی جان توڑ کے کوشش کی جائے نہ کہ منہ بند کرانے کی۔اس لیے وہ سارے علوم جو دنیا میں ویسے ہی موجود ہیں تخیلی طور پہ بھی موجود ہیں اور ذہنوں میں بھی حفظ ہیں وہ کافی نہیں ہیں۔خدا تعالیٰ اپنے فضل سے ایک علم کلام بخشا کرتا ہے اُن لوگوں کو جن پر ذمہ داریاں ڈالتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا علم کلام دیکھیں وہی دلائل ہیں جو آج آپ بھی پیش کر سکتے ہیں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جس رنگ میں پیش فرمائے ہیں آج تک اُن کی قوت میں کوئی کمی نہیں آئی۔زمین و آسمان کا فرق ہے۔وہ تحریر ہی اور ہے، وہ زبان ہی اور ہے اور سارا زور اُس میں دل جیتنے پر اور عقلوں کو سمجھانے اور قائل کرنے پر ہے۔ہر رنگ میں آپ نے