خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 111 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 111

خطبات طاہر جلدے 111 خطبه جمعه ۲۶ فروری ۱۹۸۸ء دن ان کے ساتھ صحبت رہی تو میں نے دیکھا کے وہ انتہائی فدائی اور عاشق سلسلہ ہیں یہاں تک کہ بعض دفعہ ایسا سلوک ان سے کیا گیا منافق بنا کر کہ اگر کسی اور قوم کے لوگ ہوتے تو شاید وہ مرتد ہو جاتے ، بھاگ جاتے اس جگہ کو چھوڑ کر یا جماعت کے ساتھ تعلق میں کمی پیدا کر دیتے لیکن مسلسل سر جھکا کے انہوں نے امیروں کی اطاعت کی ہے اور مبلغین کی باتوں پر سر تسلیم خم کیا ہے۔کہیں بھی کوئی باغیانہ روش اختیار نہیں کی لیکن جو بات سمجھ نہیں آئی وہ پوچھے گا انسان۔اگر نہیں پوچھے گا تو بیماری گھن بن جائے گی اس لئے اُن کی صاف گوئی کو بدقسمتی سے منافقت سمجھا گیا یا ایک معترض کی عادت بنا دیا گیا کہ گویا ایک معترض ہے اُس کو عادت ہے ہر بات پہ اعتراض کرنے کی ، تو اُس سے مجھے جس بات کی شہادت ملی کہ خدا تعالی خلیفہ وقت کو جس طرح بات سمجھانے کی توفیق عطا فرماتا ہے غیب کے علم سے یہ توفیق مل سکتی ہے اور پھر اُس محبت اور تعلق کی وجہ سے جو میں نے بیان کیا ہے بات سمجھنے کے لیے بہتر ماحول پیدا ہو جاتا ہے ایک ہی بات اگر ایسے رنگ میں کی جائے یا ایسی حالت میں کی جائے کہ جو بات سننے والا ہے اُس کو گہری محبت نہیں ہے۔تو اُس بات کا ویسا اثر نہیں پڑسکتا اگر غیریت ہو بیچ میں تو اور بھی زیادہ وہ بات اثر میں کمزور ہو جائے گی۔اگر بدظنی پیدا ہو جائے تو وہی بات بالکل بے اثر ہو جائے گی بلکہ بسا اوقات الٹا نتیجہ پیدا کرتی ہے۔اس لیے بعض علماء یہ نہیں سمجھتے وہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے جو خلاصہ پیش کر دیا ہے وہی کافی تھا۔اتنی لمبی باتیں کرنے کی کیا ضرورت ہے اور علم کے لحاظ سے ہم کسی لحاظ سے کم نہیں ہیں ہم خود یہ باتیں بیان کر سکتے ہیں۔اُن کو اس بات کا تصور بھی نہیں ہے کہ خلیفہ وقت کو وہ Rotate نہیں کر سکتے۔جماعت کی زندگی کی روح خلافت میں ہے اور اللہ تعالی کی رحمتوں اور برکتوں کا خاص سایہ ہے اس منصب پر اسی لیے ایک آدمی خواہ میرے جیسالا علم ہو، حقیر ہو اس سے بحث نہیں ہے منصب خلافت کو خدا تعالیٰ نے ایک برکت بخشی ہے اور اُس کے ساتھ جماعت کا ایک ایسا تعلق پیدا کیا ہے کہ وہ لا مثال ہے ساری دنیا میں اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی اس لئے علم کافی نہیں ہے اُس کے لیے کہ وہ اُس کو Replace کر سکے اُس کی جگہ لے سکے تو بعض مبلغین کو میں نے دیکھا ہے وہ بے تو جگی کی وجہ سے شاید یہ کمزوری دکھا رہے تھے، یا دکھا رہے ہیں۔چنانچہ جامعہ کے متعلق میں نے یہ ہدایت جاری کی کہ کچھ عرصہ پہلے کے دنیا میں جتنے بھی جامعہ ہیں ان میں ایک گھنٹہ با قاعدہ لیکچر کا رکھا جائے جس میں میری وہ پیسٹس ان کو سنوائی جائیں جو مختلف مسائل میں سوال۔