خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 110 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 110

خطبات طاہر جلدے 110 خطبه جمعه ۲۶ فروری ۱۹۸۸ء ہے بلکہ اللہ کو اپنے دین کی ضرورتوں کا بہترین علم ہے اور جن کے سپر د وہ کام کرتا ہے ان پر وہ ضرورتیں روشن فرماتا ہے۔اس پہلو سے میں نے بہت زور دیا تھا کہ خطبات کو تمام تر دوستوں تک پہنچانا چاہئے۔پھر ایک اور بات بڑی اہم یہ ہے کہ جماعت کا جو ذاتی تعلق خلیفہ وقت سے ہوتا ہے اور خلیفہ وقت کو جو گہری محبت اپنی جماعت سے ہے اس کا کوئی دوسرا عالم دعویٰ نہیں کر سکتا۔اس کے وہم وگمان میں بھی نہیں آسکتا کہ وہ رشتہ ہے کیا ؟ اس قدر گہرا محبت اور پیار کا رشتہ ہے کہ خونی رشتوں میں اس کی مثال نہیں ملتی اور ایسی فدائیت ہے دوسری طرف سے بھی جماعت کی طرف سے بھی کہ اس کا کوئی نظارہ اور جگہ دکھائی نہیں دے سکتا۔اس لئے علماء اگر ظاہری علم میں بیشک مجھ سے بہتر ہوں لیکن وہ یہ دعویٰ نہیں کر سکتے کہ ان کی باتوں میں زیادہ اثر ہوگا بہ نسبت میری باتوں کے یا جو باتیں میں جماعت کو سمجھا سکتا ہوں وہ Reflect کر سکتے ہیں اور از خود وہ ویسی باتیں اس سے بہتر رنگ میں سمجھا سکتے ہیں۔چنانچہ افریقہ میں اس بات کا تجربہ ہوا بہت سے ایسے مسائل ہیں جن کے متعلق وہاں تشنگی تھی۔روز مرہ کے عام مسائل میں علماء ان پر روشنی ڈالتے رہے ہیں ان کے پاس کتا بیں بھی مہیا ہیں اور میں نہیں کہہ سکتا کہ علماء نے اس پر روشنی نہیں ڈالی لیکن بہر حال سوالات کے جوابات دیئے ہیں لیکن تشنگی باقی رہی۔جب میں نے اپنے رنگ میں ان کو سمجھایا تو ان کے چہرے کے آثار بتاتے تھے کہ ایک دم گویا کا یا پلٹ گئی ہے ان کے دل کی اور بعض دفعہ وہ بے اختیار ہو کے وہ نعرہ تکبیر بلند کرتے تھے کہ اب ہمیں بات کی سمجھ آئی ہے۔جن ممالک میں ایسے سوالات جو تشنہ رہ گئے وہ رفتہ رفتہ اس رنگ میں دیکھے جانے لگے کہ گویا وہ معترض ہیں۔ان ممالک میں جب میں نے مسائل پر روشنی ڈالی تو معلوم ہوا کہ ہرگز وہ لوگ معترض نہیں۔اس بات کی سمجھ نہیں آ رہی تھی اور وہ سادہ ذہن لوگ ہیں اور صاف گولوگ ہیں، مربیوں سے مبلغین سے وہ سوال کرتے تھے اور مجبورا ان کا جواب دیتے تھے لیکن دلوں کو مطمئن کرنے والے جواب نہیں دے سکتے تھے نتیجا وہ سوال کرتے رہتے تھے اور ان کی تصویر یہاں مرکز میں یہ پیش کی جاتی تھی کہ گویا وہ بڑے معترض ہیں اور ان کے دل میں پورا اطمینان نہیں خلافت سے وابستگی نہیں۔اس قسم کے مسائل میں ان کی سوچ ٹیڑھی ہے، بالکل جھوٹ اور بالکل بے بنیاد بات تھی۔چنانچہ جن لوگوں کو معترض بنا کر پیش کیا جا تا تھا جب میں ان سے ملا ہوں اور چند