خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 841 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 841

خطبات طاہر جلد ۶ 841 خطبہ جمعہ اردسمبر ۱۹۸۷ء رہ ، خدا سے بخشش طلب کرتارہ۔اسے سورہ نصر میں تو بعد میں رکھا تھا یہاں پہلے رکھا ہے۔بات یہ ہے کہ جو شخص بھی خدا کی طرف بلانے والا ہو اگر اس کی توجہ اپنی اندرونی صفائی کی طرف نہ ہو تو اس کی دعوت میں طاقت پیدا نہیں ہوسکتی کیونکہ دعوت کا تعلق اعمال صالحہ سے ہے۔جتنی کسی کو زیادہ نیکی کی توفیق ملتی ہے اتنا ہی اس کی بات میں وزن پیدا ہو جاتا ہے۔جتنا ہلکا اورکھوکھلا انسان ہو خواہ وہ کیسی ہی عمدہ تقریریں کرنے والا ہو، دلائل میں کیسا ہی غالب آنے کی اہلیت رکھتا ہو اس کی بات میں قوت پیدا نہیں ہوتی۔اس لئے تبلیغ کرنے والوں کے لئے یہ راز سمجھنا بہت ضروری ہے کہ ان کو اعمال صالحہ کی طرف لا زما توجہ کرنی ہوگی۔اعمال صالحہ کا مضمون تو لامتناہی ہے۔ایک انسان ایک وقت کسی حالت میں ہے دوسرے وقت کسی حالت میں ہے، تیسرے وقت کسی حالت میں ہے۔اگر وہ مسلسل بھی ترقی کر رہا ہو تو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس نے عمل صالح کا آخری مقام حاصل کر لیا اس لئے یہ شرط نہیں لگائی جاسکتی کہ جب تک عمل صالح کامل نہ ہو جائے اس وقت تک تم تبلیغ نہ شروع کرو، اگر یہ شرط لگ جائے تو خدا کے بعض معصوم بندوں کے سوا دنیا میں کوئی کسی کو تبلیغ نہ کر سکے۔اس لئے یہاں شرط یہ رکھ دی وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبك كامل طور پر حسین عمل تمہیں نصیب نہیں بھی ہوئے تو استغفار تو کرواپنی کمزوریوں کی طرف توجہ تو کرو، یہ تو سوچا کرو کہ تم میں کیا کیا خامیاں ہیں اپنے اندرونے کی طرف نگاہ رکھو اور پھر خدا سے مدد مانگتے رہوا گر تم یہ کرنا شروع کر دو تو پھر تمہاری دعوت میں طاقت پیدا ہو جائے گی۔کیونکہ اس کے نتیجے میں پھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ فتح کا دن لا زما آئے گا۔استغفار کا نصیحت کے ساتھ ایک اور بھی بڑا گہرا تعلق ہے جسے اکثر لوگ بھلا دیتے ہیں۔وہ لوگ جن کی نظریں دوسروں کی برائیاں تلاش کرنے کی طرف رہتی ہیں وہ نصیحت کی اہلیت ہی نہیں رکھتے ان کی باتوں میں تیزی پیدا ہو جاتی ہے، وہ تلوار کی طرح کاٹنے والی باتیں ہوتی ہیں ، وہ زہر سے سارے وجود کو بھر دیتی ہیں اور جس کو بھی وہ نصیحت کرتے ہیں اس نصیحت سے وہ تکلیف پہنچاتے ہیں، اس کی اصلاح کی اہلیت نہیں رکھتے۔جیسے کوئی سانپ ڈس جائے اس سے تکلیف پہنچتی ہے بعض لوگوں کی نصیحت میں ایسی کرواہٹ ہوتی ہے کہ ایسا زہر گھلا ہوا ہوتا ہے کہ اس کے نتیجے میں فائدے کی بجائے نقصان تو ہو جاتا ہے چنانچہ ایسی نصیحتوں سے بعض دفعہ لوگ تنگ آکر ضد پر آجاتے ہیں کہتے