خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 555 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 555

خطبات طاہر جلد ۶ 555 خطبه جمعه ۲۱ را گست ۱۹۸۷ء نے عہد کر رکھا ہے ، حکومت پاکستان سے مراد ایک ڈکٹیٹر کی حکومت کی بات کر رہا ہوں، اس نے یہ عہد کر رکھا ہے کہ جماعت احمدیہ کی مخالفت کرنی ہے۔جہاں جائیں گے ہم ان کی دشمنی کریں گے۔جہاں جہاں جماعت احمد یہ موجود ہے وہاں کرائے کے مولوی بھجوا کر ان کے بزرگوں کی بے عزتیاں کروائی جائیں گی ، ان کے خلاف اشتعال پھیلایا جائے گا، ان کے خلاف نفرت کی آگ کا الاؤ روشن کیا جائے گا۔نفرت کے الاؤ کے ساتھ روشن کا لفظ تو مناسب بھی نہیں ہے، الا ؤ بھڑ کا یا جائے گا کہ دینا چاہئے۔مگر بہر حال یہ وہ فیصلے ہیں حکومت پاکستان کے ایک ڈکٹیٹر کے جن کے متعلق اس نے اپنی بدنصیبی کے ساتھ ساری دنیا میں تشہیر خود کی ہے۔انگلستان کی کانفرنس میں، یہ بات جو چند سال پہلے ہوئی تھی ایک علماء کی کانفرنس اس کی طرف میرا اشارہ ہے، اس کا نفرنس میں یہ بات ایک تحریری پیغام کے طور پر انگلستان میں پاکستان کے Ambassador کے نمائندے نے پڑھ کر سنائی جس میں پیغام کا ما حاصل یہ تھا کہ ہم یعنی حکومت پاکستان کے نزدیک جماعت احمدیہ کو ایک کینسر سمجھتی ہے اور ہم اس بات کا تہیہ کئے ہوئے ہیں کہ اس کینسر کی بیخ کنی کریں گے ہر طرح سے۔تو ایک بات ہم یقینی طور پر ساری دنیا کو ایسے موقعوں پر یاد کرا سکتے ہیں کہ ہمیں اتنا پتا ہے کہ ایک حکومت ہے جس کے بعض بد نصیب موجودہ سربراہ یہ کھلم کھلا اعلان کرتے پھرتے ہیں کہ ہم جماعت احمدیہ کی دشمنی میں جو کچھ ہم سے بن پڑے گی کریں گے۔ایسی حکومت کے کرائے کے مولوی جس ملک میں بھی جائیں گے اس ملک میں اس قسم کے واقعات کی توقع رکھنا ایک معمولی بات ہے۔بڑی بے وقوفی ہو گی کسی حکومت کی کہ ایسی حکومت کے نمائندہ مولویوں کو کھلی چھٹی دے دیں کہ ان کے اپنے ملک میں آکر وہ امن بر باد کرنے کی کوشش کریں اور پھر یہ توقع رکھیں کہ امن بر باد نہیں ہو گا۔یہ ضروری نہیں ہوا کرتا کہ ایسے واقعات حکومتوں کی براہ راست سازش کے نتیجے میں ہوں لیکن یہ تو قطعی بات ہے کہ ایک حکومت ایسی ہے جس نے تہیہ کیا ہوا ہے کہ آپ کے خلاف گند اور جھوٹ پھیلانے کے لئے کرائے کے مولوی استعمال کرے گی اور دنیا میں ہر جگہ کرے گی اور وہ با قاعدہ کرائے کے مولوی بجھوائے جاتے ہیں ہر جگہ۔ہالینڈ میں بھی آتے رہے ہیں۔اس لئے آپ بغیر کسی تردد کے یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ ان کا پھیلایا ہوا فتنہ اور فساد ہے جس کے نتیجے میں یہ واقعہ ہوا ہے، اس میں کوئی شک نہیں اور کن لوگوں نے کیا یہ ہم نہیں جانتے۔یہ بھی ممکن ہے کہ علماء کی ایسی تقریروں کے