خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 380 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 380

خطبات طاہر جلد ۶ 380 خطبه جمعه ۵/ جون ۱۹۸۷ء اندر ایک عظمت کا احساس پیدا کر جاتا ہے۔خود وہ جانتا ہے کہ اب میں دوسروں سے مختلف ہورہا ہوں یا اپنی پہلی حالت سے الگ ہو چکا ہوں۔اسی لئے مالی قربانی کا تزکیہ سے اتنا گہرا تعلق ہے اور اتنا حقیقی تعلق ہے کہ میرے نزدیک نیز سیف کے فعل میں حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا قوم کو مالی قربانیوں کے لئے تیار کرنے کا بھی ذکر شامل ہے۔یہی وجہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانے میں مالی قربانی کی روح سے واقف ہونے کے بعد صحابہ نے حیرت انگیز نمونے دکھائے جو بعض پہلو سے ناقابلِ فہم ہیں۔اصحاب صفہ وہ لوگ ہیں جن کے کمائی کے کوئی ذریعے نہیں تھے جو اپنے آپ کو خالصہ للہ وقف کر کے مسجدوں میں دھونی رما کے بیٹھ گئے تھے اور آنحضرت ﷺ کی کسی بات کو بھی کھونا نہیں چاہتے تھے ہاتھ سے اس لئے ہر وقت مسجدوں سے چمٹے ہوئے تھے اور غرباء تھے۔جب انہوں نے سمجھا کہ مالی قربانی کی کتنی عظمت ہے تو باوجود اس کے کہ خودان کا گزارہ لوگوں کے لائے ہوئے تحائف اور ہدیوں پر تھا۔ان میں سے بہت سے ایسے تھے جنہوں نے کلہاڑیاں بنائیں اور جنگلوں میں نکل گئے اور لکڑیاں کاٹیں اور شہر میں لا کر بیچیں اور جو حاصل کیا وہ خود خدا کی راہ میں خرچ کرنا شروع کیا تا کہ وہ اس عظمت سے محروم نہ رہ جائیں۔پس ان اصحاب صفہ کی درخشندہ مثال کے نتیجے میں اب قیامت تک کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں تو غریبانہ گزارہ حاصل کرنے والا ہوں میں کیسے چندہ دوں کیونکہ میری تو روز مرہ کی زندگی اس طرح گزرتی ہے کہ مجھے حکومت یا کوئی دوسرے ادارے زندہ رہنے کا الاؤنس دے رہے ہیں اس لئے چندہ ان پر فرض ہے جو کماتے ہیں میں تو بمشکل الاؤنس پر رہتا ہوں۔ان عظیم الشان صحابہ کی اس درخشندہ مثال کا پر تو ہے جماعت احمدیہ پر اللہ کے فضل کے ساتھ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ جرمنی میں خصوصیت کے ساتھ اور بعض دیگر ممالک میں بھی ایسے مخلصین ہیں جن کو بظاہر اتنا تھوڑا گزارہ ملتا ہے کہ بمشکل اس سے زندگی کے سانس پورے ہو سکتے ہیں لیکن با قاعدگی کے ساتھ اس کے باوجود وہ چندہ ادا کرتے ہیں اور دعا کے لئے تحریک کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں توفیق ملے کہ ہم اور بھی زیادہ خدمت کر سکیں۔پھر بعض ان میں سے ایسے بھی ہیں جنہوں نے بہت ہی سخت احتجاج میرے سامنے کیا کہ ہم نے جب چندہ ادا کرنے کی کوشش کی تو سیکرٹری مال نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ہم جانتے ہیں تمہارا گزارہ تھوڑا ہے اس لئے تم چندہ نہ دو۔جب ان کی شکایت مجھے ملی تو میں نے امیر کی بھی جواب