خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 315 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 315

خطبات طاہر جلد ۶ 315 خطبه جمعه ۸ رمئی ۱۹۸۷ء بچی ہے۔(ملفوظات جلد ۵ صفحہ: ۱۸۳) تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اور بھی کئی مرتبہ آپ کا ذکر فرمایا۔ایک موقع پر آپ نے فرمایا، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اپنے الفاظ جو ہیں وہ میں آپ کو سناتا ہوں۔”حقیقۃ الوحی“ میں آپ تحریر فرماتے ہیں:۔وو چالیسواں نشان یہ ہے کہ اس لڑکی کے بعد ایک اور لڑکی کی بشارت دی گئی جس کے الفاظ یہ تھے کہ دُختِ کرام چنانچہ وہ الہام الحکم اور البدر اخباروں میں اور شاید ان دونوں میں سے ایک میں شائع کیا گیا اور پھر اس کے بعد لڑ کی پیدا ہوئی جس کا نام امتہ الحفیظ رکھا گیا اور وہ اب تک زندہ ہے۔“ (حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه : ۲۲۸) دخت کرام کا مطلب ہے کریم النفس لوگوں کی اولاد۔ایسے بزرگوں کی اولاد جو اخلاق کریمانہ پر فائز ہوں۔تو مراد یہ ہے کہ جس طرح ہم اُردو میں کہتے ہیں، جیسے ہم دوسرے محاورے میں کہتے ہیں کہ اس کے خون میں شرافت اور نجابت ہے تو ان معنوں میں صاحب کرم لوگوں ، کریمانہ اخلاق والے بزرگوں کی اولاد سے مراد یہ ہے ایک ایسی بچی جس کے خون میں ہی کریمانہ اخلاق شامل ہوں گے اور جو بھی حضرت سیّدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کو جانتے تھے اور جو جانتے ہیں یہ خوب گواہی دیں گے کہ آپ کے خون اور مزاج میں کریمانہ اخلاق شامل تھے۔اس سے پہلے جس بچی کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ذکر فرمایا ہے اس کا نام امۃ النصیر تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو امتہ الحفیظ کا یعنی دُختِ کرام کا جو تحفہ عطا ہوا وہ دراصل اس پہلی بچی کی وفات پر صبر کرنے کے نتیجے میں ایک خاص پھل تھا، خاص انعام تھا چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس بچی کا بھی انتالیسویں نشان کے طور پر ذکر فرمایا ہے چونکہ ان دونوں کی ولادت کا ایک روحانی تعلق ہے اس لئے میں اس بچی کے متعلق بھی اور اس خاص نشان کے متعلق بھی احباب جماعت کو مطلع کرنا چاہتا ہوں۔اس بچی کی پیدائش 28 جنوری 1903ء کو چار بجے صبح ہوئی اور اس بچی کا نام امتہ انصیر رکھا گیا۔اس کی پیدائش سے بہت تھوڑا عرصہ پہلے یعنی تقریبا چار گھنٹے پیشتر حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کو الہام ہوا غاسق اللہ ( تذکرہ صفحہ ۳۷۴۰ تا ۳۷۶) اور اس الہام کے نتیجے میں اور ایک کشف