خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 268
خطبات طاہر جلد ۶ 268 خطبہ جمعہ ۷ ا ر ا پریل ۱۹۸۷ء اور اس سے کوئی گندہ کوئی مشکل کام لیا جائے۔اس دعا کو دعا کہنا کہاں کی عظمندی ہے؟ اس دعا کے متعلق یہ تصور باندھنا کہ یہاں دل سے نکلے گی اور عرش پہ فوراسنی جائے گی۔یہ کہاں کی ہوشمندی ہے؟ لیکن اللہ اپنے بندے پہ اتنا مہربان ہے کہ فرماتا ہے کہ بعض دفعہ ایسے بندوں کی بھی میں سن لیتا ہوں اور یہ جانتے ہوئے بھی سن لیتا ہوں کہ جب خطرے ٹل جائیں گے تو مجھ سے اعراض کریں گے مجھے بھول جائیں گے ، میرا نام بھی نہیں پھر لیں گے اور ان کو پکارا کریں گے جو میرے سوا انہوں نے شریک بنارکھے ہیں پھر بھی خدا کبھی کبھی ایسے بندوں پر مہربانی فرماتا ہے کیونکہ وہ بہت ہی مہربان ہے۔لیکن جہاں تک انسان کے زاویہ نگاہ کا تعلق ہے اس کا ہر گز حق نہیں ، ہرگز اس کو زیبا نہیں کہ اس دعا کو حقیقی معنوں میں دعا سمجھے اور پھر اس دعا پر ایسا انحصار کرے کہ گویا خدا پابند ہو چکا ہے اس حکم کو ماننے پر اور اگر نہیں مانے گا تو پھر میں سمجھوں گا کہ ہے ہی کوئی نہیں۔جو لوگ ایسی شرطیں لگاتے ہیں اور ایسی حرکتیں کرتے ہیں ان کو معلوم ہی نہیں کہ خدا کیا ہے اور یہ وہی لوگ ہیں جن کی سنی بھی جائے تو تب بھی وہ خدا کو پا کر کھو دیتے ہیں۔انہی کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے کہ ہم جانتے ہیں یہ بڑے خود غرض بندے تھے۔میں نے تو ان کی سن لی انہوں نے مجھے چھوڑ دینا ہے کیونکہ اس لائق نہیں ہیں کہ میرے ساتھ رہیں۔اس لئے دراصل ان کا چھوڑ دینا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ان کی دعا سنتے وقت خدا جانتا تھا کہ ضرورت تو میں پوری کر دوں گا لیکن میرے ساتھ رہنے کے لائق نہیں ہیں۔اسی قسم کی ایک دعا کا ذکر قرآن کریم میں اس فرعون کی دعا کے ذکر کے طور پر ملتا ہے جو موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کے مقابلے پر نکلا تھا۔جب وہ غرق ہونے لگا تو اس نے دعا کی کہ اے خدا! تو مجھے نجات بخش میں آج اس وقت موسیٰ اور ہارون کے رب پر ایمان لاتا ہوں۔گویا ایمان لانا فرعون کا کوئی اتنا بڑا خدا پر احسان تھا کہ اس کے نتیجے میں اس کی ساری خطائیں سارے مظالم اچانک معاف ہو جانے چاہئے تھے اور اچانک وہ مقبول بندہ بن جانا چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے اس کا جو جواب دیا وہ یہ تھا آئین (یونس : ۹۲) اب یہ معافی کا کون سا وقت ہے؟ جب تم کچھ کر سکتے تھے میرے بندوں کے خلاف اور میرے پیاروں کے خلاف اس وقت تم باز نہیں آئے ؟ اب تم میں طاقت کیا ہے؟ بے حیثیت لہروں کے تھپیڑوں کے رحم پر پڑے ہوئے ہو۔اب تم معافی مانگ رہے ہواس معافی کے کیا معنی؟ لیکن میں پھر بھی رؤف رحیم ہوں میں تیرے بدن کو نجات بخش دوں گا (یونس:۹۳)