خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 141 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 141

خطبات طاہر جلد ۶ 141 خطبہ جمعہ ۲۷ فروری ۱۹۸۷ء خدا تعالیٰ نے نور ہدایت عطا فرمایا ہے اور میں اس سے علاقے کو یہ نور پہنچا تا رہوں گا۔چنانچہ ان کی شہادت بھی ہمارے لحاظ سے تو ایک بہت ہی عظیم شہادت ہے ان کے لحاظ سے بھی یہ خدا تعالیٰ کا ایک بڑا عظیم فضل ہے جو ان پر نازل ہوا لیکن جہاں تک دشمن کا تعلق ہے وہی کمینگی ، وہی سفلہ پن اس قتل میں بھی پایا جاتا ہے۔رات کو ان کے گھر کی بجلی بجھائی گئی اور انہوں نے باہر نکل کے دیکھنا چاہا کہ کیا بات ہے بجلی کیوں کبھی اور دروازہ کھولا تو وہیں گولی مار کر شہید کر دیا، موقع پر ہی ان کی شہادت ہوگئی۔تو اس کو عوامی اشتعال کیسے کہہ سکتے ہیں یہ تو قتل کی ایک باقاعدہ ایک سلسلہ وار سازش ہے جو جہاں جہاں بھی فوکس (Focus) ان کا بدلتا ہے جہاں جہاں یہ فسادات کے لئے منظم ہو کر تیار ہو کر کوشش کرنا چاہتے ہیں وہاں ایسی حرکتیں کروا ر ہے ہیں اور بہت سے قتلوں کے انداز سے لگتا ہے کہ پیشہ ور قاتل استعمال ہوتے ہیں اور وہاں تو آجکل جان کی کوئی بڑی قیمت نہیں ہے اس لئے چند ہزار میں بھی آسانی کے ساتھ ایسے قاتل مہیا ہو سکتے ہیں جن کو خصوصا یہ ضمانت مل جائے کہ کوئی پکڑا نہیں جائے گا کوئی سزا نہیں ہوگی اور اگر پکڑا گیا تو ایک عظیم الشان ہیرو کے طور پر ساری دنیا میں نام اچھالا جائے گا اور اس کے بعد موت کے ہاتھوں سے چھین لیا جائے گا واپس لیکن یہ بے وقوفی ہے موت تو وہی ہے جو خدا کی طرف سے وارد ہوتی ہے اور زندگی بھی وہی ہے جو اس کی طرف سے عطا ہوتی ہے۔وہ لوگ تو مردہ ہو چکے جنہوں نے مردوں والے کام شروع کر دیئے اور جن کو یہ مارتے ہیں ان کی زندگی کی خدا شہادت دے رہا ہے اس سے بڑھ کر کیا مقام ہوسکتا ہے۔کتنے ہیں انسان جو زندہ رہتے ہیں بظاہر لیکن زندوں سے بہت زیادہ مردوں کے مشابہ زندگی گزار رہے ہیں۔بہت خوش نصیب کم ہیں وہ جن کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ زندہ ہیں اور ایسے زندہ ہیں کہ کبھی کوئی ان کو مار نہیں سکتا۔تو ان ابدی زندہ رہنے والوں میں جو امر ہو گئے جن کے او پر کبھی کوئی موت آ نہیں سکتی جو آئی اس کا نام بھی خدا نے زندگی رکھا ، ایک ہی موت آیا کرتی ہے انسان پر اور اس کا نام خدا نے زندگی رکھ دیا ایسے شخص کی زندگی پھر کون چھین سکتا ہے یہ تو یقیناً خوش نصیب ہیں لیکن ان کی محبت ان کے پیار کی وجہ سے ان کی جدائی کا دکھ بھی پہنچتا ہے اور ایسے ظالم دشمن کے متعلق طبیعت پر ایک بوجھ بھی پڑتا ہے۔ابھی گزشتہ خطبہ میں میں نے دعاؤں کی تحریک کی تھی مظالم کے باوجود ، جب یہ