خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 81
خطبات طاہر جلد ۶ 81 خطبہ جمعہ ۳۰/جنوری ۱۹۸۷ء اور دے رہے ہیں۔ہاں ان کا قول دکھ پہنچا رہا ہے۔یہ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف، جماعت کے خلاف بہتان تراشیاں کرتے ہیں اور چر کے لگاتے ہیں ہمارے دلوں کو ہم تو اس عذاب میں سے گزررہے ہیں یہ ہماری تکلیف ہے ساری۔کیسا عظیم الشان نفسیاتی کلام ہے، کلام حکیم کہ کسی پہلو کونظر انداز نہیں کرتا۔سارا مومن کا جو سفر ہے دعوت الی اللہ کا اس کی تفصیل کس شان کے ساتھ محفوظ فرمائی ہے یہاں اور کس باریکی کے ساتھ بیان کی ہے۔فرماتا ہے وَلَا يَحْزُنُكَ قَوْلُهُمْ عملاً تو کچھ بھی بگاڑ نہیں سکیں گے، عملاً تو کامیابی ہے ہی تمہاری، ہاں قول کے ذریعے یہ ضرور دکھ پہنچاتے رہیں گے۔فرمایا قول بھی تجھے دکھ نہ د اِنَّ الْعِزَّةَ لِلّهِ جَمِيعًا یقیناً ایک ایسا وقت آنے والا ہے کہ تم اور تمہارے کام عزت کے ساتھ یاد کئے جائیں گے اور یہ دکھ پہنچانے والے، گندہ کلام کرنے والے، لا ز ما ذلیل ورسوا ہوں گے۔هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِیمُ لیکن شرط یہ ہے کہ دعائیں کرتے رہو ، وہ سننے والا ہے اور جاننے والا ہے۔تمہارے دلوں کی کیفیت سے باخبر ہے پھر بھی تمہیں دعاؤں کی طرف متوجہ کر رہا ہے۔سمیع کو علیم کے ساتھ جوڑنے کا یہ مفہوم ہے کہ ویسے تو خدا سب کچھ جانتا ہی ہے ہر بات اس کے علم میں ہے۔فرمایا اس کے باوجود جو پکار ہے وہ اپنا اثر رکھتی ہے۔ایک بچہ بیمار ہو، ماں کے علم میں ہوتا ہے کہ بیمار ہے۔لیکن درد سے پکارنے والا بچہ ماں کے دل میں اور کیفیت پیدا کر دیتا ہے۔یہ پیار کے مضمون ہیں۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تمہارے حال سے باخبر ہوں لیکن پھر بھی مجھے پکارو۔میں تمہاری بات سنوں گا اور جواب دوں گا اور میرے جواب سے تم لذت پاؤ گے۔جب میں کہوں ہاں میں قریب ہوں، میں آرہا ہوں تمہاری مدد کے لئے ، اس کا لطف ہی اور ہے۔اس لئے آخر پہ قرآن کریم نے اس مضمون کی طرف توجہ دلائی کہ ساری تقدیر خدا کی تمہارے لئے تقدیر خیر ہے اس میں کوئی شر کا پہلو نہیں ہو گا۔اتنی کامل کامیابی ہے تمہارے مقدر میں کہ دنیا میں بھی تم کامیاب رہو گے اور آخرت میں بھی تم کامیاب رہو گے۔بشریٰ ہی بشری ہے تمہارے لئے لیکن اس کے باوجود دعاؤں سے غافل نہ رہنا کیونکہ دعا ئیں تقدیر کے عمل کو تیزی سے آگے بڑھاتی ہیں، اور دعائیں ہی ہیں جو ہر کوشش میں پھل پیدا کرتی ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔